صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
571. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر البيان بأن على المرء عند ظهور ما وصفنا لزوم نفسه والإقبال على شأنه دون الخوض فيما فيه الناس-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر بیان کہ ہمارے بیان کردہ فتنوں کے ظہور پر آدمی کو اپنی ذات سے لگاؤ رکھنا چاہیے اور اپنے کام پر توجہ دینی چاہیے نہ کہ لوگوں کے معاملات میں الجھنا
حدیث نمبر: 6730
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ الْعَلاءِ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: كَيْفَ أَنْتَ يَا عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عَمْرٍو لَوْ بَقِيتَ فِي حُثَالَةٍ مِنَ النَّاسِ؟ قَالَ: وَذَاكَ مَا هُمْ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ: ذَاكَ" إِِذَا مَرَجَتْ عُهُودُهُمْ وَأَمَانَاتُهُمْ، وَصَارُوا هَكَذَا، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ"، قَالَ: فَكَيْفَ بِي يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" تَعْمَلُ بِمَا تَعْرِفُ، وَتَدَعُ مَا تُنْكِرُ، وَتَعْمَلُ بِخَاصَّةِ نَفْسِكِ، وَتَدَعُ عَوَامَّ النَّاسِ" .
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اے عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما! اس وقت تمہارا کیا عالم ہو گا جب تم بچے کھچے (یعنی کمینے) لوگوں میں باقی رہ جاؤ گے؟“ انہوں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! وہ کون لوگ ہوں گے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب ان لوگوں کے عہد اور ان کی امانتیں اختلاط کا شکار ہو جائیں گے اور وہ لوگ اس طرح ہو جائیں گے۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی انگلیاں ایک دوسرے سے پیوست کر کے یہ بات ارشاد فرمائی۔ سیدنا عبداللہ رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! پھر مجھے کیا کرنا چاہیے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم وہ کام کرو جسے تم نیکی سمجھو اور اس چیز کو چھوڑ دو جسے تم منکر قرار دو اور تم صرف اپنی ذات کے لیے کام کرو اور عام لوگوں کو (ان کے حال پر) چھوڑ دو۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6730]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 5950، 5951، 6730، والطحاوي فى (شرح مشكل الآثار) برقم: 1182، 1183، والطبراني فى (الأوسط) برقم: 2776، 8791» «رقم طبعة با وزير 6695»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (205 - 206).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم