🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

609. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر الإخبار عن قلة الرجال وكثرة النساء في آخر الزمان-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر کہ آخر زمان میں مردوں کی کمی اور عورتوں کی کثرت ہوگی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6768
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هُدْبَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا قَتَادَةُ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّهُ قَالَ يَوْمًا: أَلا أُحَدِّثُكُمْ بِحَدِيثٍ لا يُحَدِّثُكُمْ بِهِ أَحَدٌ بَعْدِي سَمِعْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لا تَقُومُ السَّاعَةُ أَوْ مِنْ شَرَائِطِ السَّاعَةِ: أَنْ يُرْفَعَ الْعِلْمُ، وَيَكْثُرَ الْجَهْلُ، وَيُشْرَبَ الْخَمْرُ، وَيَظْهَرَ الزِّنَى، وَيَقِلَّ الرِّجَالُ، وَتَكْثُرَ النِّسَاءُ، حَتَّى يَكُونَ لِخَمْسِينَ امْرَأَةً قَيِّمٌ وَاحِدٌ" .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کے بارے میں یہ بات منقول ہے، انہوں نے ایک دن فرمایا: کیا میں تمہیں ایسی حدیث بیان نہ کروں کہ وہ حدیث تمہیں میرے بعد کوئی بیان نہیں کرے گا؟ میں نے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبانی سنی ہے۔ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا: ”قیامت اس وقت تک قائم نہیں ہو گی (راوی کو شک ہے شاید یہ الفاظ ہیں) قیامت کی نشانیوں میں یہ بات بھی شامل ہے کہ علم کو اٹھا لیا جائے گا، جہالت کی کثرت ہو گی، شراب پی جائے گی، زنا عام ہو گا اور مرد کم ہو جائیں گے، عورتیں زیادہ ہو جائیں گی، یہاں تک کہ پچاس عورتوں کا نگران ایک مرد ہو گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6768]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 80، 81، 5231، 5577، 6808، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2671، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6768، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5874، 5875، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2205، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4045، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12125، 12392» «رقم طبعة با وزير 6730»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: ق. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں