🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

625. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر وصف العرش الذي كان يراه ابن صياد في تلك الأيام-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر وصف کہ اس تخت کی جو ابن صیاد ان دنوں میں دیکھتا تھا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6784
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الأَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ أَبِي نَضْرَةَ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، قَالَ: لَقِيَ نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَ صَائِدٍ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ وَعُمَرُ، قَالَ: وَابْنُ صَائِدٍ مَعَ الْغِلْمَانِ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلّمَ: " أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ قَالَ: أَتَشْهَدُ أَنِّي رَسُولُ اللَّهِ؟ فَقَالَ نَبِيُّ اللَّهِ: آمَنْتُ بِاللَّهِ وَبِرَسُولِهِ، قَالَ: فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَا تَرَى؟ قَالَ: أَرَى عَرْشًا عَلَى الْمَاءِ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَرَى عَرْشَ إِِبْلِيسَ عَلَى الْبَحْرِ، قَالَ: انْظُرْ مَا تَرَى، قَالَ: أَرَى صَادِقِينَ وَكَاذِبِينَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لُبِسَ عَلَى نَفْسِهِ"، فَدَعَاهُ .
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ملاقات ابن صائد سے ہوئی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہما بھی تھے، راوی کہتے ہیں: ابن صائد اس وقت لڑکوں کے ساتھ (کھیل رہا تھا)، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے دریافت کیا: کیا تم اس بات کی گواہی دیتے ہو کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ اس نے دریافت کیا: کیا آپ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ میں اللہ کا رسول ہوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: «آمَنْتُ بِاللّٰهِ وَرُسُلِهِ» میں اللہ تعالیٰ اور اس کے (حقیقی اور سچے) رسولوں پر ایمان رکھتا ہوں۔ راوی کہتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: میں پانی پر تخت دیکھتا ہوں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تمہیں سمندر پر ابلیس کا تخت نظر آتا ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: تم اس بات کا جائزہ لو کہ تم کیا دیکھتے ہو؟ اس نے جواب دیا: میں کچھ سچے اور کچھ جھوٹے لوگوں کو دیکھتا ہوں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس کا معاملہ مشتبہ ہو چکا ہے، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے چھوڑ دیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6784]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2926، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6784، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11809، 15397، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 38664» «رقم طبعة با وزير 6746»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح الأدب المفرد» -أيضاً-: م
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں