🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

658. باب إخباره صلى الله عليه وسلم عما يكون في أمته من الفتن والحوادث - ذكر خبر قد يوهم من لم يحكم صناعة الحديث أن خبر عمرو بن محمد الذي ذكرناه وهم-
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ان پیشین گوئیوں کا بیان جو آپ نے اپنی امت میں ہونے والے فتنوں اور واقعات کے بارے میں فرمائیں - ذکر خبر جو حدیث کی صنعت میں غیر ماہر کو یہ وہم دلاتی ہے کہ عمرو بن محمد کی ہمارے ذکر کردہ خبر غلط ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6818
أَخْبَرَنَا ابْنُ قُتَيْبَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ مَوْهَبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي اللَّيْثُ بْنُ سَعْدٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَيُوشِكَنَّ أَنْ يَنْزِلَ فِيكُمُ ابْنُ مَرْيَمَ حَكَمًا مُقْسِطًا، يَكْسِرُ الصَّلِيبَ، وَيَقْتُلُ الْخِنْزِيرَ، وَيَضَعُ الْجِزْيَةَ، وَيُفِيضُ الْمَالَ حَتَّى لا يَقْبَلُهُ أَحَدٌ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: سَمِعَ هَذَا الْخَبَرَ لَيْثُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ مِينَاءَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَسَمِعَهُ عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيِّبِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، فَالطَّرِيقَانِ جَمِيعًا مَحْفُوظَانِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس ذات کی قسم! جس کے دست قدرت میں میری جان ہے عنقریب تمہارے درمیان سیدنا عیسیٰ بن مریم انصاف کرنے والے اور عدل کرنے والے حکمران کے طور پر نزول کریں گے وہ صلیب کو توڑ دیں گے خنزیر کو قتل کر دیں گے اور جزیے کو ختم کر دیں گے مال کو عام کر دیں گے، یہاں تک کہ کوئی شخص اسے قبول نہیں کرے گا۔
(امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ روایت لیث بن سعد نے سعید مقبری کے حوالے سے عطاء بن میناء کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے اور انہوں نے یہ روایت زہری کے حوالے سے سعید بن مسیب کے حوالے سے سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بھی سنی ہے، تو اس کے دونوں طرق محفوظ ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ التَّارِيخِ/حدیث: 6818]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2222، 2476، 3448، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 155، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6779، 6816، 6818، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4185، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2233، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 4078، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 1174 وأحمد فى (مسنده) برقم: 7389» «رقم طبعة با وزير 6779»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «شرح الطحاوية» (500/ 762)، «قصة المسيح - عليه السلام -» (ص 59): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں