🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

53. ذكر تعظيم المصطفى صلى الله عليه وسلم عثمان إذ الملائكة كانت تعظمه-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان کی تعظیم کی کیونکہ فرشتوں نے ان کی تعظیم کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6907
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ شُجَاعٍ السَّكُونِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْمَاعِيلُ بْنُ جَعْفَرٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي حَرْمَلَةَ ، عَنْ عَطَاءٍ ، وَسُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، وَأَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، أَنَّ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُضْطَجِعًا فِي بَيْتِهِ كَاشِفًا عَنْ فَخِذَيْهِ، فَاسْتَأْذَنَ أَبُو بَكْرٍ فَأَذِنَ لَهُ وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَتَحَدَّثَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُمَرُ فَأَذِنَ لَهُ، وَهُوَ عَلَى تِلْكَ الْحَالِ، فَتَحَدَّثَ، ثُمَّ اسْتَأْذَنَ عُثْمَانُ، فَجَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَوَّى ثِيَابَهُ، فَدَخَلَ فَتَحَدَّثَ، فَلَمَّا خَرَجَ، قَالَتْ عَائِشَةُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، دَخَلَ أَبُو بَكْرٍ، فَلَمْ تَهَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِ بِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُمَرُ، فَلَمْ تَهَشَّ لَهُ وَلَمْ تُبَالِ بِهِ، ثُمَّ دَخَلَ عُثْمَانُ، فَجَلَسْتَ فَسَوَّيْتَ ثِيَابَكَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَلا أَسْتَحِي مِنْ رَجُلٍ تَسْتَحِي مِنْهُ الْمَلائِكَةُ" .
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں زانوں سے کپڑا ہٹا کر لیٹے ہوئے تھے، سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اجازت دے دی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہے اور وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بات چیت کرتے رہے، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں بھی اجازت عطا کر دی لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم اسی حالت میں رہے اور وہ بات چیت کرتے رہے، پھر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے اندر آنے کی اجازت مانگی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے ٹھیک کر لیے، سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے اور وہ بات چیت کرتے رہے، جب وہ چلے گئے تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے دریافت کیا: یا رسول اللہ! پہلے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ آئے لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے حرکت نہیں کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی کوئی خاص پرواہ نہیں کی، پھر سیدنا عمر رضی اللہ عنہ آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے بھی حرکت نہیں کی اور ان کی بھی کوئی خاص پرواہ نہیں کی، پھر جب سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اندر آئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدھے ہو کر بیٹھ گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے کپڑے بھی ٹھیک کیے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں ایک ایسے شخص سے حیا کیوں نہ کروں جس سے فرشتے بھی حیا کرتے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 6907]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2401، 2402، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6906، 6907، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 3292، وأحمد فى (مسنده) برقم: 521» «رقم طبعة با وزير 6868»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» -أيضا-: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں