صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
64. ذكر عهد المصطفى صلى الله عليه وسلم إلى عثمان بن عفان ما يحل به من أمته بعده-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے عثمان بن عفان کو اس عہد کی خبر دی جو ان کے بعد ان کی امت سے ان پر آئے گا
حدیث نمبر: 6918
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ ، حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ إِِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنْ عَائِشَةَ ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي مَرَضِهِ: " وَدِدْتُ أَنَّ عِنْدِي بَعْضَ أَصْحَابِي، قَالَتْ: فَقُلْنَا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلا نَدْعُو لَكَ أَبَا بَكْرٍ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: عُمَرُ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: عَلِيٌّ؟ فَسَكَتَ، قُلْنَا: عُثْمَانُ؟ قَالَ: نَعَمْ"، قَالَتْ: فَأَرْسَلْنَا إِِلَى عُثْمَانَ، قَالَ: فَجَعَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُكَلِّمُهُ وَوَجْهُهُ يَتَغَيَّرُ . قَالَ قَالَ قَيْسٌ : فَحَدَّثَنِي أَبُو سَهْلَةَ ، أَنَّ عُثْمَانَ ، قَالَ يَوْمَ الدَّارِ: إِِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" عَهِدَ إِِلَيَّ عَهْدًا، وَأَنَا صَابِرٌ عَلَيْهِ" ، قَالَ قَيْسٌ: كَانُوا يَرَوْنَ أَنَّهُ ذَلِكَ الْيَوْمُ.
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی بیماری کے دوران ارشاد فرمایا: ”میری یہ خواہش ہے کہ میرا کوئی صحابی میرے پاس موجود ہوتا۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ انہوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! کیا ہم سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بلوا دیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ ہم نے عرض کی: سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ ہم نے کہا: سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ ہم نے کہا: سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں، تو ہم نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ساتھ بات چیت کرتے رہے اور سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے چہرے کا رنگ تبدیل ہوتا رہا۔ ابوسہلہ نامی راوی بیان کرتے ہیں کہ جب سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو گھر میں قید کر دیا گیا تو سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے یہ عہد لیا تھا، میں اس پر صبر سے کام لوں گا۔ قیس نامی راوی کہتے ہیں کہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے مراد وہی دن تھا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 6918]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6918، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 113، وأحمد فى (مسنده) برقم: 26437، والحميدي فى (مسنده) برقم: 270، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 32700» «رقم طبعة با وزير 6879»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (6070)، «الظلال» (1175 و 1176).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين