صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
98. ذكر إخبار المصطفى صلى الله عليه وسلم فاطمة أنها أول لاحق به من أهله بعد وفاته-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے فاطمہ رضی اللہ عنہا کو خبر دی کہ وہ ان کے اہل میں سے سب سے پہلے ان کے بعد ان سے ملے گی
حدیث نمبر: 6953
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِِسْحَاقَ بْنِ إِِبْرَاهِيمَ مَوْلَى ثَقِيفٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ ، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، حَدَّثَنَا إِِسْرَائِيلُ ، عَنْ مَيْسَرَةَ بْنِ حَبِيبٍ ، عَنِ الْمِنْهَالِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ عَائِشَةَ بِنْتِ طَلْحَةَ ، عَنْ أُمِّ الْمُؤْمِنِينَ عَائِشَةَ ، أَنَّهَا قَالَتْ:" مَا رَأَيْتُ أَحَدًا كَانَ أَشْبَهَ كَلامًا وَحَدِيثًا بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ فَاطِمَةَ ، وَكَانَتْ إِِذَا دَخَلَتْ عَلَيْهِ، قَامَ إِِلَيْهَا وَقَبَّلَهَا، وَرَحَّبَ بِهَا، وَأَخَذَ بِيَدِهَا، وَأَجْلَسَهَا فِي مَجْلِسِهِ، وَكَانَتْ هِيَ إِِذَا دَخَلَ عَلَيْهَا قَامَتْ إِِلَيْهِ فَقَبَّلَتْهُ وَأَخَذَتْ بِيَدِهِ، فَدَخَلَتْ عَلَيْهِ فِي مَرَضِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَأَسَرَّ إِِلَيْهَا فَبَكَتْ، ثُمَّ أَسَرَّ إِِلَيْهَا فَضَحِكَتْ، فَقَالَتْ: كُنْتُ أَحْسَبُ أَنَّ لِهَذِهِ الْمَرْأَةِ فَضْلا عَلَى النَّاسِ، فَإِِذَا هِيَ امْرَأَةٌ مِنْهُنَّ بَيْنَا هِيَ تَبْكِي إِِذَا هِيَ تَضْحَكُ، فَلَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سَأَلْتُهَا عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَتْ: أَسَرَّ إِِلَيَّ أَنَّهُ مَيِّتٌ فَبَكَيْتُ، ثُمَّ أَسَرَّ إِِلَيَّ فَأَخْبَرَنِي أَنِّي أَوَّلُ أَهْلِهِ لُحُوقًا بِهِ فَضَحِكَتْ" .
ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں نے ایسا کوئی شخص نہیں دیکھا، جو بات چیت کرنے اور گفتگو میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے زیادہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے مشابہت رکھتا ہو۔ جب سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تشریف لاتی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے لیے کھڑے ہو جاتے تھے، ان کا بوسہ لیتے تھے، انہیں خوش آمدید کہتے تھے، ان کا ہاتھ پکڑ لیتے تھے اور انہیں اپنی جگہ پر بٹھاتے تھے؛ اور جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان کے ہاں تشریف لے جاتے تھے، وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے کھڑی ہو جاتی تھیں، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا بوسہ لیتی تھیں اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا ہاتھ پکڑتی تھیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی وہ بیماری جس کے دوران آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہوا، اس کے دوران سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں ان کے ساتھ کوئی بات کی تو وہ رونے لگ پڑیں، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں ان کے ساتھ کوئی بات چیت کی تو وہ ہنسنے لگ پڑیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: میں یہ سمجھتی تھی اس خاتون کو دیگر لوگوں پر فضیلت حاصل ہے (یعنی یہ دوسروں سے زیادہ سمجھدار ہے) لیکن یہ تو ایک عورت ثابت ہوئی، ابھی رو رہی تھی اور ابھی ہنسنے لگ پڑی، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو میں نے ان سے اس بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے بتایا: پہلے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں مجھے بتایا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہونے والا ہے“ تو میں رو پڑی، پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی میں مجھے یہ بتایا کہ ”آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اہل خانہ میں سب سے پہلے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے آ ملوں گی“ تو میں ہنس پڑی۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 6953]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 3623، 3625، 3715، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2450، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6952، 6953، 6954، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4759، وأبو داود فى (سننه) برقم: 5217، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3872، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1621، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 13710، وأحمد فى (مسنده) برقم: 25121» «رقم طبعة با وزير 6914»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «المشكاة» (4689)، «نقد نصوص حديثية» (44 - 45).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح