صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
109. ذكر قول المصطفى صلى الله عليه وسلم للحسن بن علي إنه ريحانته من الدنيا-
- ذکر کہ مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم نے حسن بن علی کو دنیا میں اپنی ریحانہ کہا
حدیث نمبر: 6964
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا مُبَارَكُ بْنُ فَضَالَةَ ، عَنِ الْحَسَنِ ، أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرَةَ ، قَالَ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِنَا، وَكَانَ الْحَسَنُ يَجِيءُ وَهُوَ صَغِيرٌ، فَكَانَ كُلَّمَا سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَثَبَ عَلَى رَقَبَتِهِ وَظَهْرِهِ، فَيَرْفَعُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَأْسَهُ رَفَعًا رَقِيقًا حَتَّى يَضَعَهُ، فَقَالُوا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِِنَّكَ تَصْنَعُ بِهَذَا الْغُلامِ شَيْئًا مَا رَأَيْنَاكَ تَصْنَعُهُ بِأَحَدٍ، فَقَالَ: " إِِنَّهُ رَيْحَانَتِي مِنَ الدُّنْيَا، إِِنَّ ابْنِي هَذَا سَيِّدٌ، وَعَسَى اللَّهُ أَنْ يُصْلِحَ بِهِ بَيْنَ فِئَتَيْنِ مِنَ الْمُسْلِمِينَ" .
سیدنا ابوبکرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں نماز پڑھائی، سیدنا حسن رضی اللہ عنہ آئے، وہ اس وقت چھوٹے بچے تھے، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں گئے تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی گردن اور پشت پر سوار ہو گئے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر آرام سے اٹھایا یہاں تک کہ انہیں زمین پر بٹھا دیا۔ لوگوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بچے کے ساتھ ایسا کام کرتے ہوئے دیکھا ہے جو ہم نے کسی کے ساتھ کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ دنیا میں میری خوشبو ہے، میرا یہ بیٹا سردار ہے، عنقریب اللہ تعالیٰ اس کی وجہ سے مسلمانوں کے دو بڑے گروہوں کے درمیان صلح کروائے گا۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 6964]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2704، 3629، 3746، 7109، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 6964، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 4836، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1409، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4662، والترمذي فى (جامعه) برقم: 3773، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 12043، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20719» «رقم طبعة با وزير 6925»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «الصحيحة» (564).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح