🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

157. ذكر البيان بأن أسعد بن زرارة هو الذي جمع أول جمعة بالمدينة قبل قدوم المصطفى صلى الله عليه وسلم إياها-
- ذکر بیان کہ اسعد بن زرارہ وہ شخص تھے جنہوں نے مصطفٰی صلی اللہ علیہ وسلم کے مدینہ آنے سے پہلے وہاں پہلی جمعہ منعقد کی
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7013
أَخْبَرَنَا أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَوْنٍ الرَّيَّانِيُّ، حَدَّثَنَا عَمَّارُ بْنُ الْحَسَنِ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ بْنُ الْفَضْلِ، عَنِ ابْنِ إِِسْحَاقَ، قَالَ: فَحَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ ، أَخْبَرَهُ، قَالَ: كُنْتُ قَائِدَ أَبِي بَعْدَمَا ذَهَبَ بَصَرُهُ، وَكَانَ لا يَسْمَعُ الأَذَانَ بِالْجُمُعَةِ إِِلا، قَالَ: رَحْمَةُ اللَّهِ عَلَى أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَتِ، إِِنَّهُ لَتُعْجِبُنِي صَلاتُكَ عَلَى أَبِي أُمَامَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ بِالأَذَانِ بِالْجُمُعَةِ، فَقَالَ: أَيْ بُنَيَّ، كَانَ " أَوَّلَ مَنْ جَمَّعَ الْجُمُعَةَ بِالْمَدِينَةِ فِي حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ، فِي نَقِيعٍ، يُقَالُ لَهُ: الْخَضَمَاتُ، قُلْتُ: وَكَمْ أَنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: أَرْبَعُونَ رَجُلا" .
عبداللہ بن کعب بیان کرتے ہیں: میں اپنے والد (سیدنا کعب بن مالک رضی اللہ عنہ) کی بینائی رخصت ہو جانے کے بعد انہیں ساتھ لے کر جایا کرتا تھا، وہ جب بھی جمعہ کے لیے اذان کی آواز سنتے تھے تو یہ کہتے تھے: «رَحِمَ اللّٰهُ أَسْعَدَ بْنَ زُرَارَةَ» اللہ تعالیٰ سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ پر رحم کرے۔ میں نے کہا: اے ابا جان! مجھے اس بات پر حیرت ہوتی ہے کہ آپ جب بھی جمعہ کے لیے اذان سنتے ہیں تو آپ ابوامامہ (یعنی سیدنا اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ) کے لیے دعائے رحمت کرتے ہیں، تو انہوں نے فرمایا: اے میرے بیٹے! وہ پہلے شخص ہیں جنہوں نے مدینہ منورہ میں بنو بیاضہ کی پتھریلی زمین میں نقیع میں، جسے خضمات کہا جاتا تھا، جمعہ قائم کیا تھا۔ میں نے دریافت کیا: اس وقت آپ لوگوں کی تعداد کتنی تھی؟ انہوں نے بتایا: ہم چالیس لوگ تھے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7013]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن الجارود فى "المنتقى"، 320، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1724، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7013، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1043، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1069، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1082، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 5687، 5688، والدارقطني فى (سننه) برقم: 1585» «رقم طبعة با وزير 6974»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
حسن - «صحيح أبي داود» (980)، «ابن خزيمة» (1724).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده قوي
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں