🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

212. ذكر عبد الله بن عمر بن الخطاب العدوي رضوان الله عليه-
- ذکر عبد اللہ بن عمر بن خطاب عدوی رضی اللہ عنہ کا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7070
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، حَدَّثَنَا إِِسْحَاقُ بْنُ إِِبْرَاهِيمَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ سَالِمٍ ، عَنْ أبيه ، قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ فِي حَيَاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِِذَا رَأَى رُؤْيَا قَصَّهَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكُنْتُ غُلامًا شَابًّا عَزَبًا، وَكُنْتُ أَنَامُ فِي الْمَسْجِدِ، فَرَأَيْتُ فِيَ الْمَنَامِ كَأَنَّ مَلَكَيْنِ أَخَذَانِي، فَذَهَبَا بِي إِِلَى النَّارِ، فَإِِذَا هِيَ مَطْوِيَّةٌ كَطَيِّ الْبِئْرِ، وَإِِذَا لَهَا قَرْنَانِ، وَإِِذَا فِيهَا نَاسٌ قَدْ عَرَفْتُهُمْ، فَجَعَلْتُ أَقُولُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ مَرَّتَيْنِ، فَلَقِيَهُمَا مَلَكٌ آخَرُ، فقَالَ لِي: لَنْ تُرَاعَ، فَقَصَصْتُهَا عَلَى حَفْصَةَ، فَقَصَّتْهَا حَفْصَةُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" نِعْمَ الرَّجُلُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ، غَيْرَ أَنَّهُ لا يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ إِِلا قَلِيلا" ، قَالَ سَالِمٌ: فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ بَعْدَ ذَلِكَ لا يَنَامُ مِنَ اللَّيْلِ إِِلا قَلِيلا.
سالم (اپنے والد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما) کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ اقدس میں جب کوئی شخص کوئی خواب دیکھتا تھا، تو وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے اسے بیان کرتا تھا۔ میں ان دنوں نوجوان کنوارہ شخص تھا اور مسجد میں سو جایا کرتا تھا۔ میں نے خواب میں دیکھا کہ دو فرشتوں نے مجھے پکڑا اور وہ مجھے ساتھ لے کر جہنم کی طرف گئے، تو وہ کنویں کی طرح گول تھی اور اس کے دو کنارے تھے، میں نے اس میں کچھ لوگوں کو دیکھا جن سے میں شناسا تھا، تو میں نے یہ کہنا شروع کیا: «أَعُوذُ بِاللَّهِ مِنَ النَّارِ» میں جہنم سے اللہ کی پناہ مانگتا ہوں، یہ بات میں نے دو مرتبہ کہی، پھر ان دونوں فرشتوں سے ایک اور فرشتہ کی ملاقات ہوئی، تو اس نے مجھ سے کہا: تم گھبراؤ نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں: میں نے سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو یہ خواب سنایا، تو سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ خواب سنایا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: عبداللہ اچھا آدمی ہے مگر یہ کہ وہ رات کے وقت بہت تھوڑے نوافل ادا کرتا ہے۔ سالم بیان کرتے ہیں: اس کے بعد سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے اپنا معمول بنایا کہ وہ رات کے وقت بہت تھوڑی دیر کے لیے سوتے تھے (زیادہ تر نوافل ادا کرتے رہتے تھے)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7070]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 440، 1121، 3738، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2478، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1330، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7070، 7071، 7072، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 721، والترمذي فى (جامعه) برقم: 321، 3825، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 751، 3919، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 4405، 4716، وأحمد فى (مسنده) برقم: 4581» «رقم طبعة با وزير 7030»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں