صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
249. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر البيان بأن الوحي لم يكن ينزل على المصطفى صلى الله عليه وسلم وهو في بيت واحدة من نسائه خلا عائشة-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس بیان کا کہ وحی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ان کی کسی بیوی کے گھر میں نازل نہ ہوتی سوائے عائشہ رضی اللہ عنہا کے
حدیث نمبر: 7109
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو كُرَيْبٍ ، حَدَّثَنَا أَبُو أُسَامَةَ ، حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عُرْوَةَ ، عَنْ عَوْفِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ الطُّفَيْلِ ، عَنْ رُمَيْثَةَ أُمِّ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي عَتِيقٍ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ ، قَالَتْ: كَلَّمْنَنِي صَوَاحِبِي أَنْ أُكَلِّمَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَأْمُرَ النَّاسَ فَيُهْدُوا لَهُ حَيْثُ كَانَ، فَإِنَّ النَّاسَ يَتَحَرَّوْنَ بِهَدَايَاهُمْ يَوْمَ عَائِشَةَ، وَإِنَّا نُحِبُّ الْخَيْرَ كَمَا تُحِبُّ عَائِشَةَ، فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَمْ يُرَاجِعْنِي، فَجَاءَنِي صَوَاحِبِي، فَأَخْبَرْتُهُنَّ أَنَّهُ لَمْ يُكَلِّمْنِي، فَقُلْنَ وَاللَّهِ لا نَدَعُهُ، قَالَتْ: فَكَلَّمْتُهُ مِثْلَ الْمَقَالَةِ الأُولَى مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلاثًا، كُلُّ ذَلِكَ يَسْكُتُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ:" يَا أُمَّ سَلَمَةَ، لا تُؤْذِينِي فِي عَائِشَةَ، فَإِنِّي وَاللَّهِ مَا نَزَلَ الْوَحْيُ عَلَيَّ وَأَنَا فِي بَيْتِ امْرَأَةٍ مِنْ نِسَائِي غَيْرَ عَائِشَةَ"، قَالَتْ: فَقُلْتُ: أَعُوذُ بِاللَّهِ أَنْ أَسُوءَكَ فِي عَائِشَةَ .
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میری ساتھی خواتین (یعنی دیگر ازواجِ مطہرات) نے میرے ساتھ یہ بات چیت کی کہ میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات کروں کہ آپ لوگوں کو یہ ہدایت کریں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جہاں کہیں بھی ہوں، تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں تحائف پیش کر دیا کریں، کیونکہ لوگ تحائف پیش کرنے کے لیے صرف سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے مخصوص دن کا اہتمام سے انتظار کرتے ہیں، جبکہ ہم بھی بھلائی کو اسی طرح پسند کرتی ہیں جس طرح عائشہ اسے پسند کرتی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، میری ساتھی خواتین میرے پاس آئیں تو میں نے انہیں بتایا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے کوئی جواب نہیں دیا، تو ان خواتین نے کہا: اللہ کی قسم! ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ایسے نہیں رہنے دیں گی (یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات ضرور کریں گی)۔ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ پھر میں نے دو یا شاید تین مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اسی کی مانند بات کی، ہر مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ام سلمہ! عائشہ کے بارے میں مجھے تکلیف نہ پہنچاؤ، اللہ کی قسم! میری ازواج میں سے عائشہ کے علاوہ اور کسی خاتون کے گھر میں مجھ پر وحی نازل نہیں ہوتی۔“ سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: میں اس بات سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں کہ میں عائشہ کے بارے میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی تکلیف پہنچاؤں (یعنی آپ کو ناراض کروں)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7109]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7109، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 6795، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3960، وأحمد فى (مسنده) برقم: 27155» «رقم طبعة با وزير 7065»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: خ (2581 و 3775).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
حديث صحيح