صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
305. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر ثابت بن قيس بن شماس رضي الله عنه-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر ثابت بن قیس بن شماس رضی اللہ عنہ کا
حدیث نمبر: 7167
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ ، حَدَّثَنَا حِبَّانُ بْنُ مُوسَى ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ ، أَخْبَرَنَا يُونُسُ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ ثَابِتٍ ، أَنَّ ثَابِتَ بْنَ قَيْسٍ الأَنْصَارِيَّ ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَاللَّهِ لَقَدْ خَشِيتُ أَنْ أَكُونَ قَدْ هَلَكْتُ، قَالَ:" لِمَ؟"، قَالَ: قَدْ نَهَانَا اللَّهُ عَنْ أَنْ نُحِبَّ أَنْ نُحْمَدَ بِمَا لَمْ نَفْعَلْ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْحَمْدَ، وَنَهَى اللَّهُ عَنِ الْخُيَلاءِ، وَأَجِدُنِي أُحِبُّ الْجَمَالَ، وَنَهَى اللَّهُ أَنْ نَرْفَعَ أَصْوَاتَنَا فَوْقَ صَوْتِكَ، وَأَنَا امْرُؤٌ جَهِيرُ الصَّوْتِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا ثَابِتُ، أَلا تَرْضَى أَنْ تَعِيشَ حَمِيدًا، وَتُقْتَلَ شَهِيدًا، وَتَدْخُلَ الْجَنَّةَ؟"، قَالَ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ ، قَالَ: فَعَاشَ حَمِيدًا، وَقُتِلَ شَهِيدًا يَوْمَ مُسَيْلِمَةَ الْكَذَّابِ.
سیدنا ثابت بن قیس انصاری رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے اسمٰعیل نقل کرتے ہیں کہ ایک مرتبہ سیدنا ثابت بن قیس رضی اللہ عنہ نے عرض کی: ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم! مجھے اس بات کا اندیشہ ہے کہ میں ہلاکت کا شکار ہو جاؤں گا۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: ”وہ کیوں؟“ انہوں نے عرض کی: اللہ تعالیٰ نے ہمیں اس بات سے منع کیا ہے کہ ہم اس چیز کو پسند کریں، جو ہم نے نہیں کیا اور اس پر ہماری تعریف کی جائے ﴿وَيُحِبُّونَ أَن يُحْمَدُوا بِمَا لَمْ يَفْعَلُوا﴾ [سورة آل عمران: 188] اور مجھے اپنے اندر یہ بات ملتی ہے کہ میں اپنی تعریف کو پسند کرتا ہوں، اسی طرح اللہ نے اپنے اوپر اترانے سے منع کیا ہے ﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ [سورة لقمان: 18] اور مجھے اپنے اندر یہ چیز ملتی ہے کہ میں جمال کو پسند کرتا ہوں، اللہ تعالیٰ نے اس بات سے بھی منع کیا ہے کہ ہم اپنی آوازیں آپ کی آواز سے بلند کریں ﴿لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ﴾ [سورة الحجرات: 2] اور میں ایک ایسا شخص ہوں جس کی آواز بلند ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے ثابت! کیا تم اس بات سے راضی نہیں ہو کہ تم قابلِ تعریف زندگی بسر کرو اور شہید ہونے کے عالم میں مارے جاؤ اور جنت میں داخل ہو جاؤ؟“ میں نے عرض کی: ”جی ہاں! یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ۔“ راوی بیان کرتے ہیں: تو انہوں نے لائقِ تعریف زندگی گزاری اور مسیلمہ کذاب کے ساتھ لڑائی کے دن شہید ہوئے۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7167]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7167، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 5067، وعبد الرزاق فى (مصنفه) برقم: 20425، والطبراني فى(الكبير) برقم: 1310» «رقم طبعة با وزير 7123»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (6398).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
Null