صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
321. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر الموضع الذي مات فيه أبو طلحة الأنصاري-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر اس مقام کا جہاں ابو طلحہ انصاری فوت ہوئے
حدیث نمبر: 7184
أخبرنا أخبرنا أَبُو يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلامٍ الْجُمَحِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ ، عَنْ ثَابِتٍ ، عَنْ أَنَسٍ ، أَنَّ أَبَا طَلْحَةَ، قَرَأَ سُورَةَ بَرَاءَةً، فَأَتَى عَلَى هَذِهِ الآيَةِ: انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالا، فَقَالَ: " أَلا أَرَى رَبِّي يَسْتَنفِرُنِي شَابًّا وَشَيْخًا، جَهِّزُونِي"، فَقَالَ لَهُ بَنُوهُ: قَدْ غَزَوْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قُبِضَ، وَغَزَوْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ حَتَّى مَاتَ وَغَزَوْتُ مَعَ عُمَرَ، فَنَحْنُ نَغْزُو عَنْكَ، فَقَالَ:" جَهِّزُونِي"، فَجَهَّزُوهُ وَرَكِبَ الْبَحْرَ، فَمَاتَ، فَلَمْ يَجِدُوا لَهُ جَزِيرَةً يَدْفِنُونَهُ فِيهَا إِلا بَعْدَ سَبْعَةِ أَيَّامٍ فَلَمْ يَتَغَيَّرْ .
سیدنا انس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے سورہ توبہ کی تلاوت کی، جب وہ اس آیت ﴿انْفِرُوا خِفَافًا وَثِقَالًا﴾ [سورة التوبة: 41] ”تم لوگ (جہاد کے لیے) نکل کھڑے ہو خواہ ہلکے ہو یا بوجھل ہو“ پر پہنچے، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا میں نہیں دیکھ رہا کہ میرے پروردگار نے مجھے نکلنے کے لیے کہا ہے، خواہ میں جوان ہوں یا بوڑھا ہوں، تم لوگ میرا سامان تیار کرو۔ ان کے بیٹوں نے ان سے کہا: آپ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمراہ غزوات میں شرکت کی ہے یہاں تک کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا، پھر آپ نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگوں میں حصہ لیا، یہاں تک کہ ان کا بھی انتقال ہو گیا، پھر آپ نے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ جنگ میں حصہ لیا، اب ہم لوگ آپ کی جگہ جنگ میں شرکت کے لیے چلے جاتے ہیں، تو سیدنا ابوطلحہ رضی اللہ عنہ نے کہا: تم لوگ میرا سامان تیار کرو۔ ان لوگوں نے ان کا سامان تیار کیا، وہ سمندری سفر پر روانہ ہوئے، اسی دوران ان کا انتقال ہو گیا۔ ان کے ساتھیوں کو انہیں دفن کرنے کے لیے کوئی جزیرہ نہیں ملا، ان کے انتقال کے سات دن بعد انہیں جزیرہ ملا (جہاں وہ انہیں دفن کرتے) لیکن اس دوران ان کی (میت میں) کوئی تبدیلی نہیں آئی (یعنی میت خراب نہیں ہوئی)۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7184]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه ابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7184، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 2517، 5554، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 6876، 17874» «رقم طبعة با وزير 7140»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح. * [أَبُو يَعْلَى] قال الشيخ: أخرجه في «مسنده» (6/ 138 / 3413)، وإسناده صحيح على شرط مسلم. وأخرجه الحاكم (3/ 353) من طريق أخرى عن حمّاد ... به، وقال: «صحيح على شرط مسلم».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم