🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

326. ذكر عمرو بن العاص السهمي رضي الله عنه - ذكر أم حرام بنت ملحان رضي الله عنها-
ذکر عمرو بن العاص سہمی رضی اللہ عنہ کا - ذکر ام حرام بنت ملحان رضی اللہ عنہا کا
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 7189
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ بِالْبَصْرَةِ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ زَيْدٍ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى بْنِ حِبَّانَ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، عَنْ أُمِّ حَرَامٍ ، قَالَتْ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عِنْدَنَا، فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، مَا أَضْحَكَكَ؟ قَالَ: " رَأَيْتُ قَوْمًا مِنْ أُمَّتِي يَرْكَبُونَ هَذَا الْبَحْرَ كَالْمُلُوكِ عَلَى الأَسِرَّةِ"، ثُمَّ نَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَهُوَ يَضْحَكُ، قَالَتْ: فَسَأَلْتُهُ، فَقَالَ لِي مِثْلَ ذَلِكَ، قُلْتُ: ادْعُ اللَّهَ أَنْ يَجْعَلَنِي مِنْهُمْ، قَالَ:" أَنْتِ مِنَ الأَوَّلِينَ" ، فَتَزَوَّجَهَا عُبَادَةُ بْنُ الصَّامِتِ، فَرَكِبَ وَرَكِبَتْ مَعَهُ، فَلَمَّا قُدِّمَتْ إِلَيْهَا بَغْلَةٌ لِتَرْكَبَهَا انْدَقَّتْ عُنُقُهَا فَمَاتَتْ.
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بیان نقل کرتے ہیں: انہوں نے یہ بات بتائی ایک مرتبہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے ہاں تشریف لائے، آپ نے ہمارے ہاں قیلولہ کیا، جب آپ بیدار ہوئے تو آپ ہنس رہے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں، آپ کس بات پر ہنس رہے ہیں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میں نے اپنی امت کے کچھ لوگوں کو دیکھا جو سمندر پر یوں سوار تھے، جس طرح بادشاہ اپنے تخت پر ہوتے ہیں۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سو گئے، جب آپ بیدار ہوئے تو آپ مسکرا رہے تھے۔ سیدہ ام حرام رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے پھر یہی سوال کیا، تو آپ نے مجھے اسی کی مانند جواب دیا۔ میں نے عرض کی: آپ اللہ تعالیٰ سے دعا کیجیے کہ وہ مجھے بھی ان میں شامل کر دے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پہلے والوں میں شامل ہو۔ (راوی بیان کرتے ہیں:) پھر سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہما نے اس خاتون کے ساتھ شادی کر لی۔ سیدنا عبادہ رضی اللہ عنہ اور وہ خاتون سوار ہو کر (سمندری سفر پر روانہ ہوئے)، پھر جب وہ سمندری سفر سے واپس آئے تو ایک خچر اس خاتون کے سامنے لایا گیا تاکہ وہ اس پر سوار ہوں، تو وہ (اس سے نیچے گر گئیں) ان کی گردن کی ہڈی ٹوٹ گئی اور ان کا انتقال ہو گیا۔ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7189]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 2788، 2799، 2877، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 1912، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 4608، 6667، 7189، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 8765، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 3171، وأبو داود فى (سننه) برقم: 2490، والترمذي فى (جامعه) برقم: 1645، والدارمي فى (مسنده) برقم: 2465، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 2776، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 8759، وأحمد فى (مسنده) برقم: 13724» «رقم طبعة با وزير 7145»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (2249 - 2250): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط الشيخين
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں