صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
374. باب فضل الأمة - ذكر سؤال المصطفى صلى الله عليه وسلم ربه جل وعلا أن لا يهلك أمته بالسنة والغرق-
امتِ (محمدی) کے فضائل کا بیان - ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اپنے رب سے درخواست کا کہ ان کی امت کو قحط اور ڈوبنے سے ہلاک نہ کرے
حدیث نمبر: 7237
وَأَخْبَرَنَا ابن خزيمة ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ هَاشِمٍ الطُّوسِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ حَكِيمٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَقْبَلَ ذَاتَ يَوْمٍ مِنَ الْعَالِيَةِ حَتَّى إِذَا مَرَّ بِمَسْجِدِ بَنِي مُعَاوِيَةَ دَخَلَ، فَرَكَعَ فِيهِ رَكْعَتَيْنِ، وَصَلَّيْنَا مَعَهُ، فَدَعَا رَبَّهُ طَوِيلا، ثُمَّ انْصَرَفَ إِلَيْنَا فَقَالَ: " سَأَلْتُ رَبِّي أَنْ لا يُهْلِكَ أُمَّتِي بِالسَّنَةِ، فَأَعْطَانِيهَا، وَسَأَلْتُهُ أَنْ لا يَجْعَلَ بَأْسَهُمْ بَيْنَهُمْ، فَمَنَعَنِيهَا" .
سیدنا سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بالائی علاقے کی طرف سے تشریف لا رہے تھے، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا گزر بنو معاویہ کی مسجد سے ہوا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے اندر آئے، دو رکعت ادا کیں اور ہم نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا میں نماز ادا کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے پروردگار سے طویل دعا مانگی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہماری طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا: ”میں نے اپنے پروردگار سے یہ درخواست کی تھی کہ وہ میری امت کو قحط سالی کے ذریعے ہلاک نہیں کرے گا، تو اس نے مجھے یہ چیز عطا کر دی، میں نے اس سے درخواست کی کہ یہ لوگ آپس میں نہ لڑیں، تو اس نے یہ چیز قبول نہیں کی۔“ [صحیح ابن حبان/كِتَابُ إِخْبَارِهِ ﷺ عَنْ مَنَاقِبِ الصَّحَابَةِ رِجَالِهِمْ وَنِسَائِهِمْ بِذِكْرِ أَسْمَائِهِمْ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِمْ أَجْمَعِينَ/حدیث: 7237]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 2890، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 7237، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1535» «رقم طبعة با وزير 7193»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (1724): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم