🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

7. باب مَا يَقُولُ إِذَا سَجَدَ
باب: سجدہ تلاوت میں کیا پڑھے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1414
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ، حَدَّثَنَا خَالِدٌ الْحَذَّاءُ، عَنْ رَجُلٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ فِي سُجُودِ الْقُرْآنِ بِاللَّيْلِ، يَقُولُ فِي السَّجْدَةِ مِرَارًا:" سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ".
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات میں قرآن کے سجدوں میں کئی بار «سجد وجهي للذي خلقه وشق سمعه وبصره بحوله وقوته» یعنی میرے چہرے نے اس ذات کو سجدہ کیا جس نے اپنی قوت و طاقت سے اسے پیدا کیا اور اس کے کان اور آنکھ بنائے کہتے تھے۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1414]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رات کو سجدہ قرآن میں یہ دعا تکرار سے پڑھا کرتے تھے: «سَجَدَ وَجْهِي لِلَّذِي خَلَقَهُ وَشَقَّ سَمْعَهُ وَبَصَرَهُ بِحَوْلِهِ وَقُوَّتِهِ» میرا چہرہ اس ذات کے لیے سجدہ ریز ہے جس نے اس کو پیدا کیا اور اپنی طاقت اور قوت سے اس کے کان اور آنکھ بنائے۔ [سنن ابي داود/كتاب سجود القرآن /حدیث: 1414]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الصلاة 290 (الجمعة 55) (580)، والدعوات 33 (3425)، سنن النسائی/التطبیق 70 (1130)، (تحفة الأشراف:16083)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/30، 217) (صحیح)» ‏‏‏‏ (ترمذی اور نسائی کے یہاں سند میں عن رجل (مجہول راوی) نہیں ہے، اور خالد الخداء کی روایت ابوالعالیہ سے ثابت ہے اس لئے اس حدیث کی صحت میں کوئی کلام نہیں)
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (580،3425) نسائي (1130)
رجل: مجهول — قال الامام أبو بكر ابن خزيمة: ’’وإنما كنت تركت إملاء خبر أبي العالية،عن عائشة أن النبي ﷺ كان يقول في سجود القرآن بالليل: ((سجد وجهي للذي خلقه،وشق سمعه وبصره،بحوله وقوته)) لأن بين خالد الحذاء وبين أبي العالية رجلا غير مسمي لم يذكر الرجل عبد الوهاب بن عبد المجيد،وخالد بن عبد الله الواسطي‘‘ (صحيح ابن خزيمه: 1/ 282 تحت ح 563)
قال الشيخ زبير علي زئي: ’’والحديث صحيح في السجود مطلقًا،انظر سنن أبي داود (760) وصحيح مسلم (771)‘‘
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 56

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں