سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. باب الرَّجُلِ يَبْتَاعُ صَدَقَتَهُ
باب: زکاۃ دے کر پھر اس کو خریدنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1593
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مَسْلَمَةَ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، حَمَلَ عَلَى فَرَسٍ فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَوَجَدَهُ يُبَاعُ، فَأَرَادَ أَنْ يَبْتَاعَهُ، فَسَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَقَالَ:" لَا تَبْتَعْهُ وَلَا تَعُدْ فِي صَدَقَتِكَ".
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا، پھر اسے بکتا ہوا پایا تو خریدنا چاہا تو اور اس کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مت خریدو، اپنے صدقے کو مت لوٹاؤ“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1593]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے اللہ کی راہ میں ایک گھوڑا دیا، پھر دیکھا کہ اسے بیچا جا رہا ہے تو انہوں نے اسے خرید لینا چاہا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے مت خریدو اور اپنا صدقہ مت واپس لو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الزَّكَاةِ/حدیث: 1593]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الزکاة 59(1489)، والھبة 30 (2623)، 37 (2636)، والوصایا 31 (2775)، والجہاد 119 (2971)، 137 (3002)، صحیح مسلم/الھبات 1 (1621)، (تحفة الأشراف:8351)، وقد أخرجہ: سنن الترمذی/الزکاة 32 (668)، سنن النسائی/الزکاة 100 (2616)، سنن ابن ماجہ/الصدقات 1 (2390)، 2 (2392)، موطا امام مالک/الزکاة 26(49)، مسند احمد (1/40، 54) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2636) صحيح مسلم (1620)