سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
36. باب فِي الرَّجُلِ يَدْخُلُ بِامْرَأَتِهِ قَبْلَ أَنْ يُنْقِدَهَا شَيْئًا
باب: کچھ نقد دینے سے پہلے عورت سے خلوت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2125
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الطَّالَقَانِيُّ، حَدَّثَنَا عَبْدَةُ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: لَمَّا تَزَوَّجَ عَلِيٌّ فَاطِمَةَ، قَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَعْطِهَا شَيْئًا"، قَالَ: مَا عِنْدِي شَيْءٌ، قَالَ:" أَيْنَ دِرْعُكَ الْحُطَمِيَّةُ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن سے کہا: ”اسے کچھ دے دو“، انہوں نے کہا: میرے پاس تو کچھ بھی نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا: ”تمہاری حطمی زرہ ۱؎ کہاں ہے؟“ ۲؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2125]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جب سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے علی رضی اللہ عنہ سے فرمایا: ”اس کو کوئی چیز دو۔“ انہوں نے کہا: ”میرے پاس تو کوئی چیز نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تمہاری حطمی زرہ کہاں ہے؟“ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2125]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/النکاح 76 (3378)، (تحفة الأشراف: 6000)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/8) (حسن صحیح)»
وضاحت: ۱؎: ”حطمي“: زرہ ہے جو تلوار کو توڑ دے، یا حطمہ کوئی قبیلہ تھا جو زرہ بنایا کرتا تھا۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ شب زفاف (سہاگ رات) میں پہلی ملاقات کے وقت بیوی کو کچھ ہدیہ تحفہ دینا مستحب ہے۔
۲؎: اس سے معلوم ہوا کہ شب زفاف (سہاگ رات) میں پہلی ملاقات کے وقت بیوی کو کچھ ہدیہ تحفہ دینا مستحب ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
انظر سنن النسائي (3377 وسنده صحيح، 3378) وللحديث طرق أخريٰ، أنظر مسند الحميدي (38 بتحقيقي)
انظر سنن النسائي (3377 وسنده صحيح، 3378) وللحديث طرق أخريٰ، أنظر مسند الحميدي (38 بتحقيقي)
حدیث نمبر: 2126
حَدَّثَنَا كَثِيرُ بْنُ عُبَيْدٍ الْحِمْصِيُّ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ شُعَيْبٍ يَعْنِي ابْنَ أَبِي حَمْزَةَ، حَدَّثَنِي غَيْلَانُ بْنُ أَنَسٍ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ رَجُلٍ مِنْ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ عَلِيًّا لَمَّا تَزَوَّجَ فَاطِمَةَ بِنْتَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَرَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَأَرَادَ أَنْ يَدْخُلَ بِهَا فَمَنَعَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى يُعْطِيَهَا شَيْئًا، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَيْسَ لِي شَيْءٌ. فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"أَعْطِهَا دِرْعَكَ"، فَأَعْطَاهَا دِرْعَهُ ثُمَّ دَخَلَ بِهَا.
محمد بن عبدالرحمٰن بن ثوبان سے روایت ہے وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اصحاب میں سے ایک شخص سے روایت کرتے ہیں کہ جب علی رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحبزادی فاطمہ رضی اللہ عنہا سے شادی کی اور ان کے پاس جانے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں منع فرما دیا جب تک کہ وہ انہیں کچھ دے نہ دیں تو انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس کچھ نہیں ہے، اس پر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے اپنی زرہ ہی دے دو“، چنانچہ انہیں زرہ دے دی، پھر وہ ان کے پاس گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2126]
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے صحابہ میں سے ایک شخص سے روایت ہے کہ علی رضی اللہ عنہ نے جب فاطمہ رضی اللہ عنہا دختر رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کی اور ان کے ہاں جانا چاہا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو روک لیا حتیٰ کہ پہلے کوئی چیز پیش کریں۔ انہوں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میرے پاس کوئی چیز نہیں ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنی زرہ ہی دے دو۔“ چنانچہ انہوں نے ان کو اپنی زرہ دی، پھر ان کے ہاں گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2126]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 15668) (ضعيف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
غيلان بن أنس مستور (مجھول الحال) روي عنه جماعة وذكره ابن حبان في الثقات (13/9)
ولحديثه بعض الشواھد منھا الحديث السابق (الأصل : 2125)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 80
إسناده ضعيف
غيلان بن أنس مستور (مجھول الحال) روي عنه جماعة وذكره ابن حبان في الثقات (13/9)
ولحديثه بعض الشواھد منھا الحديث السابق (الأصل : 2125)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 80
حدیث نمبر: 2127
حَدَّثَنَا كَثِيرٌ يَعْنِي ابْنَ عُبَيْدٍ، حَدَّثَنَا أَبُو حَيْوَةَ، عَنْ شُعَيْبٍ، عَنْ غَيْلَانَ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، مِثْلَهُ.
اس سند سے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے مثل مروی ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2127]
عکرمہ رحمہ اللہ، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے اس کی مثل روایت کرتے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2127]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 6184) (ضعيف)»
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
غيلان بن أنس مستور (مجھول الحال) روي عنه جماعة وذكره ابن حبان في الثقات (13/9)
ولحديثه بعض الشواھد منھا الحديث السابق (الأصل : 2125)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 80
إسناده ضعيف
غيلان بن أنس مستور (مجھول الحال) روي عنه جماعة وذكره ابن حبان في الثقات (13/9)
ولحديثه بعض الشواھد منھا الحديث السابق (الأصل : 2125)
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 80
حدیث نمبر: 2128
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ، حَدَّثَنَا شَرِيكٌ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ طَلْحَةَ، عَنْ خَيْثَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُدْخِلَ امْرَأَةً عَلَى زَوْجِهَا قَبْلَ أَنْ يُعْطِيَهَا شَيْئًا". قَالَ أَبُو دَاوُد: وَ خَيْثَمَةُ لَمْ يَسْمَعْ مِنْ عَائِشَةَ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے ایک عورت کو اس کے شوہر کے پاس پہنچا دینے کا حکم دیا قبل اس کے کہ وہ اسے کچھ دے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: خیثمہ کا سماع ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2128]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ ”کسی عورت کو اس کے شوہر پر پیش نہ کروں جب تک کہ وہ اس کو کوئی چیز نہ دے دے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”خیثمہ (عبدالرحمٰن جعفی) نے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے نہیں سنا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2128]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/النکاح 54 (16069)، (تحفة الأشراف: 16069) (ضعیف)» (سند میں انقطاع ہے جیسا کہ مؤلف نے بیان کر دیا ہے)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1992)
خيثمة لم يسمع من عائشة رضي اللّٰه عنھا كما قال أبو داود وغيره و شريك القاضي عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81
إسناده ضعيف
ابن ماجه (1992)
خيثمة لم يسمع من عائشة رضي اللّٰه عنھا كما قال أبو داود وغيره و شريك القاضي عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 81
حدیث نمبر: 2129
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ الْبُرْسَانِيُّ، أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا امْرَأَةٍ نُكِحَتْ عَلَى صَدَاقٍ أَوْ حِبَاءٍ أَوْ عِدَّةٍ قَبْلَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لَهَا، وَمَا كَانَ بَعْدَ عِصْمَةِ النِّكَاحِ فَهُوَ لِمَنْ أُعْطِيَهُ وَأَحَقُّ مَا أُكْرِمَ عَلَيْهِ الرَّجُلُ ابْنَتُهُ أَوْ أُخْتُهُ".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت نے مہر یا عطیہ یا وعدے پر نکاح کیا تو نکاح سے قبل ملنے والی چیز عورت کی ہو گی اور جو کچھ نکاح کے بعد ملے گا وہ اسی کا ہے جس کو دیا گیا (انعام وغیرہ)، مرد جس چیز کے سبب اپنے اکرام کا مستحق ہے وہ اس کی بیٹی یا بہن ہے“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2129]
عمرو بن شعیب اپنے والد (شعیب) سے، وہ (اپنے) دادا (عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جس عورت کا کسی سے نکاح ہو اور عقدِ نکاح سے پہلے جو کوئی مہر، عطیہ یا وعدہ کیا گیا ہو تو وہ سب اس عورت کا حق ہے۔ اور جو عقد کے بعد دیا جائے تو وہ اسی کا ہے جس کو دیا جائے۔ اور کسی کا سب سے عمدہ اکرام وہ ہے جو اس کی بیٹی یا بہن کی وجہ سے کیا جائے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب النِّكَاحِ/حدیث: 2129]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن النسائی/النکاح 67 (3355)، سنن ابن ماجہ/النکاح 41 (1955)، (تحفة الأشراف: 8745)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/82) (ضعیف)» (اس کے راوی ابن جریج مدلس ہیں اور عنعنہ سے روایت ہے، ملاحظہ ہو: سلسلة الاحادیث الضعيفة، للالبانی 1007)
قال الشيخ الألباني: ضعيف
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
أخرجه النسائي (3355 وسنده حسن) وابن ماجه (1955 وسنده حسن) ابن جريج صرح بالسماع عند النسائي فالسند حسن
أخرجه النسائي (3355 وسنده حسن) وابن ماجه (1955 وسنده حسن) ابن جريج صرح بالسماع عند النسائي فالسند حسن