🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

24. باب إِلَى مَتَى تُرَدُّ عَلَيْهِ امْرَأَتُهُ إِذَا أَسْلَمَ بَعْدَهَا
باب: جب مرد عورت کے بعد اسلام قبول کرے تو کب تک عورت کو اسے لوٹایا جا سکتا ہے؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2240
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ النُّفَيْلِيُّ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَمَةَ. ح وحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو الرَّازِيُّ، حَدَّثَنَا سَلَمَةُ يَعْنِي ابْنَ الْفَضْلِ، ح وحَدَّثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ الْمَعْنَى، كُلُّهُمْ عَنْ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنْ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ:" رَدَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ابْنَتَهُ زَيْنَبَ عَلَى أَبِي الْعَاصِ بِالنِّكَاحِ الْأَوَّلِ لَمْ يُحْدِثْ شَيْئًا". قَالَ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو فِي حَدِيثِهِ:" بَعْدَ سِتِّ سِنِينَ"، وَقَالَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيٍّ:" بَعْدَ سَنَتَيْنِ".
عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی زینب رضی اللہ عنہا کو ابوالعاص کے پاس پہلے نکاح پر واپس بھیج دیا اور نئے سرے سے کوئی نکاح نہیں پڑھایا۔ محمد بن عمرو کی روایت میں ہے چھ سال کے بعد ایسا کیا اور حسن بن علی نے کہا: دو سال کے بعد۔ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2240]
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی صاحبزادی زینب کو (ان کے شوہر) ابوالعاص رضی اللہ عنہ پر پہلے نکاح ہی سے لوٹا دیا تھا، اور کوئی نیا (نکاح وغیرہ) نہ کیا تھا۔“ محمد بن عمرو نے اپنی روایت میں کہا کہ ”آپ نے چھ سال بعد (لوٹایا تھا)“ اور حسن بن علی نے کہا: ”دو سال بعد۔“ [سنن ابي داود/كتاب تفريع أبواب الطلاق /حدیث: 2240]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/النکاح 42 (1143)، سنن ابن ماجہ/النکاح 60 (2009)، (تحفة الأشراف: 6073)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/217، 261، 351) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح دون ذكر السنين
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1143) ابن ماجه (2009)
داود بن الحصين ثقة ولكن قال ابن المديني : ’’ ما روي عن عكرمة فمنكر‘‘ (انظر الجرح والتعديل 409/3) والتقريب (1779) وغيرھما فالجرح (خاص) مفسر و مقدم
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 85

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں