🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

78. باب الاِعْتِكَافِ
باب: اعتکاف کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2462
حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ عُقَيْلٍ، عَنْ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ حَتَّى قَبَضَهُ اللَّهُ"، ثُمَّ اعْتَكَفَ أَزْوَاجُهُ مِنْ بَعْدِهِ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف فرماتے تھے، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول وفات تک رہا، پھر آپ کے بعد آپ کی بیویوں نے اعتکاف کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2462]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان مبارک کے آخری دہے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، آخر حیات تک آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ معمول رہا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد پھر آپ کی ازواج مطہرات رضی اللہ عنہن بھی اعتکاف بیٹھا کرتی تھیں۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2462]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الاعتکاف 1 (2026)، صحیح مسلم/الاعتکاف 1 (1172)، سنن الترمذی/الصوم 71 (790)، (تحفة الأشراف: 16538)، وقد أخرجہ: مسند احمد (6/69، 92، 279) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2026) صحيح مسلم (1172)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2463
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا ثَابِتٌ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" كَانَ يَعْتَكِفُ الْعَشْرَ الْأَوَاخِرَ مِنْ رَمَضَانَ فَلَمْ يَعْتَكِفْ عَامًا، فَلَمَّا كَانَ فِي الْعَامِ الْمُقْبِلِ اعْتَكَفَ عِشْرِينَ لَيْلَةً".
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کیا کرتے تھے، ایک سال (کسی وجہ سے) اعتکاف نہیں کر سکے تو اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رات کا اعتکاف کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2463]
سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کا آخری عشرہ اعتکاف فرمایا کرتے تھے۔ ایک سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم اعتکاف نہ بیٹھ سکے تو اگلے سال آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیس رات تک اعتکاف فرمایا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2463]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن ابن ماجہ/الصیام 58 (1770)، (تحفة الأشراف: 16538)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/141) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (2102، 2103)
أخرجه ابن ماجه (1770 وسنده صحيح) وصححه ابن خزيمة (2225 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2464
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ، وَيَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَمْرَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" إِذَا أَرَادَ أَنْ يَعْتَكِفَ صَلَّى الْفَجْرَ ثُمَّ دَخَلَ مُعْتَكَفَهُ. قَالَتْ: وَإِنَّهُ أَرَادَ مَرَّةً أَنْ يَعْتَكِفَ فِي الْعَشْرِ الْأَوَاخِرِ مِنْ رَمَضَانَ، قَالَتْ: فَأَمَرَ بِبِنَائِهِ فَضُرِبَ. فَلَمَّا رَأَيْتُ ذَلِكَ أَمَرْتُ بِبِنَائِي فَضُرِبَ، قَالَتْ: وَأَمَرَ غَيْرِي مِنْ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِبِنَائِهِ فَضُرِبَ. فَلَمَّا صَلَّى الْفَجْرَ نَظَرَ إِلَى الْأَبْنِيَةِ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ آلْبِرَّ تُرِدْنَ؟ قَالَتْ: فَأَمَرَ بِبِنَائِهِ فَقُوِّضَ، وَأَمَرَ أَزْوَاجُهُ بِأَبْنِيَتِهِنَّ فَقُوِّضَتْ، ثُمَّ أَخَّرَ الِاعْتِكَافَ إِلَى الْعَشْرِ الْأُوَلِ يَعْنِي مِنْ شَوَّالٍ". قَالَ أَبُو دَاوُد: رَوَاهُ ابْنُ إِسْحَاقَ، وَالْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، نَحْوَهُ. وَرَوَاهُ مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، قَالَ: اعْتَكَفَ عِشْرِينَ مِنْ شَوَّالٍ.
ام المؤمنین عائشہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کرنے کا ارادہ کرتے تو فجر پڑھ کر اعتکاف کی جگہ جاتے، ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کرنے کا ارادہ فرمایا، تو خیمہ لگانے کا حکم دیا، خیمہ لگا دیا گیا، جب میں نے اسے دیکھا تو اپنے لیے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا، اسے بھی لگایا گیا، نیز میرے علاوہ دیگر ازواج مطہرات نے بھی خیمہ لگانے کا حکم دیا تو لگایا گیا، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فجر پڑھی تو ان خیموں پر آپ کی نگاہ پڑی آپ نے پوچھا: یہ کیا ہیں؟ کیا تمہارا مقصد اس سے نیکی کا ہے؟ ۱؎، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے نیز اپنی ازواج کے خیموں کے توڑ دینے کا حکم فرمایا، اور اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک کے لیے مؤخر کر دیا۔ ابوداؤد کہتے ہیں: اسے ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے اور اسے مالک نے بھی یحییٰ بن سعید سے روایت کیا ہے اس میں ہے آپ نے شوال کی بیس تاریخ کو اعتکاف کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2464]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے منقول ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جب اعتکاف کا ارادہ فرماتے تو فجر کی نماز پڑھ کر اپنے حجرہ اعتکاف میں داخل ہو جاتے۔ ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رمضان کے آخری دہے میں اعتکاف کا ارادہ فرمایا اور حجرہ بنانے کا حکم دیا تو وہ بنا دیا گیا، جب میں نے یہ دیکھا تو میں نے کہہ دیا کہ میرا خیمہ بھی لگا دیا جائے۔ چنانچہ وہ لگا دیا گیا اور پھر دیگر ازواجِ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی (دیکھا دیکھی) خیمے لگانے کو کہا۔ چنانچہ وہ لگا دیے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز فجر کے بعد خیموں کو دیکھا تو فرمایا: یہ کیا ہے، بھلا یہ نیکی کا قصد کر رہی ہیں؟ چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے حجرے کے متعلق فرمایا اور اسے کھول دیا گیا، اس پر ازواجِ محترمات نے بھی اپنے اپنے خیمے کھلوا لیے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا یہ اعتکاف شوال کے پہلے عشرہ تک مؤخر فرما دیا۔ امام ابوداؤد رحمہ اللہ نے کہا: اس حدیث کو ابن اسحاق اور اوزاعی نے یحییٰ بن سعید سے اسی طرح روایت کیا ہے جب کہ امام مالک رحمہ اللہ نے یحییٰ بن سعید سے روایت کیا تو کہا: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے شوال کے بیس دن اعتکاف کیا۔ [سنن ابي داود/كتاب الصيام /حدیث: 2464]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الاعتکاف 6 (2033)، 7 (2034)، 14 (2041)، 18 (2045)، صحیح مسلم/الاعتکاف 2 (1172)، سنن الترمذی/الصوم 71 (791)، سنن النسائی/المساجد 18 (710)، سنن ابن ماجہ/الصوم 59 (1771)، (تحفة الأشراف: 17930)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/الاعتکاف 4 (7)، مسند احمد (6/84، 226) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: استفہام انکاری ہے یعنی اس کام سے تم سب کے پیش نظر نیکی نہیں ہے، غیرت کی وجہ سے یہ کام کر رہی ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (2033) صحيح مسلم (1173)
مشكوة المصابيح (2104)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں