مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
24. بَابُ إِسْبَاغِ الْوُضُوءِ وَالتَّخْلِيلِ بَيْنَ الْأَصَابِعِ وَالْمُبَالَغَةِ فِي الِاسْتِنْشَاقِ
کامل وضو کرنے، انگلیوں کے درمیان خلال کرنے اور ناک میں اچھی طرح پانی ڈالنے کا بیان
حدیث نمبر: 51
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ سُلَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو هَاشِمٍ إِسْمَاعِيلُ بْنُ كَثِيرٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ لَقِيطِ بْنِ صَبِرَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنْتُ وَفْدَ بَنِي الْمُنْتَفِقِ، أَوْ فِي وَفْدِ بَنِي الْمُنْتَفِقِ، فَأَتَيْنَاهُ فَلَمْ نُصَادِفْهُ، وَصَادَفْنَا عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا، فَأَتَتْنَا بِقِنَاعٍ فِيهِ تَمْرٌ وَالْقِنَاعُ: الطَّبَقُ وَأَمَرَتْ لَنَا بِخَزِيرَةٍ فَصُنِعَتْ، ثُمَّ أَكَلْنَا، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ جَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"هَلْ أَكَلْتُمْ شَيْئًا؟ هَلْ أُمِرَ لَكُمْ بِشَيْءٍ؟" فَقُلْنَا: نَعَمْ، فَلَمْ نَلْبَثْ أَنْ دَفَعَ الرَّاعِي غَنَمَهُ، فَإِذَا شَاةٌ تَيْعِرُ، فَقَالَ: هِيهِ يَا فُلَانُ مَا وَلَّدْتَ؟ قَالَ: بَهْمَةً، قَالَ:"فَاذْبَحْ لَنَا مَكَانَهَا شَاةً"، ثُمَّ انْحَرَفَ إِلَيَّ، فَقَالَ: لَا [ ص: 174 ] تَحْسَبَنَّ، وَلَمْ يَقُلْ: لَا تَحْسَبَنَّ أَنَّا مِنْ أَجْلِكَ ذَبَحْنَاهَا، لَنَا غَنَمٌ مِائَةٌ لَا نُرِيدُ أَنْ تَزِيدَ، فَإِذَا وَلَّدَ الرَّاعِي بَهْمَةً ذَبَحْنَا مَكَانَهَا شَاةً، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنِّ لِي امْرَأَةً فِي لِسَانِهَا شَيْءٌ، يَعْنِي: الْبَذَاءَ، فَقَالَ:"طَلِّقْهَا"، قُلْتُ: إِنَّ لِي مِنْهَا وَلَدًا وَلَهَا صُحْبَةٌ، قَالَ: فَمُرْهَا، يَقُولُ: عِظْهَا فَإِنْ يَكُنْ فِيهَا خَيْرٌ فَسَتَقْبَلُ، وَلَا تَضْرِبَنَّ ظَعِينَتَكَ ضَرْبَكَ أُمَيَّتَكَ. قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَخْبِرْنِي عَنِ الْوُضُوءِ، قَالَ:"أَسْبِغِ الْوُضُوءَ، وَخَلِّلْ بَيْنَ الْأَصَابِعِ، وَبَالِغْ فِي الِاسْتِنْشَاقِ، إِلَّا أَنْ تَكُونَ صَائِمًا" .
لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، فرماتے ہیں: میں وفد بنی المنتفق میں تھا، ہم نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے نہ مل سکے۔ ہمارا سامنا عائشہ رضی اللہ عنہا سے ہوا تو انہوں نے کھجور کے پتوں سے بنے ہوئے برتن میں ہمارے پاس کھجوریں بھیجیں اور ہمارے لیے گوشت کے چھوٹے ٹکڑے کر کے پکانے کا حکم دیا، وہ گوشت پکایا گیا، پھر ہم نے کھایا۔ ہم تھوڑی دیر ٹھہرے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی آگئے، آپ نے فرمایا: ”کیا تم نے کچھ کھایا؟ کیا تمہارے لیے کچھ لانے کا کہا گیا ہے؟“ ہم نے کہا: ہاں۔ تھوڑی دیر بعد ایک چرواہے نے بکریاں ہانکیں تو ان میں ایک بکری چلا رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے فلاں! بکری نے کیا جنا؟“ چرواہے نے کہا: ”بچہ“۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہمارے لیے اس کی جگہ بکری ذبح کرو“۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے میری طرف رخ کیا اور فرمایا: ”یہ مت سمجھو کہ ہم نے یہ جانور تمہارے لیے ذبح کیا، ہماری سو بکریاں ہیں ہم نہیں چاہتے کہ وہ زیادہ ہوں جب ایک بکری بچہ جنم دیتی ہے تو ہم اس کی جگہ دوسری کو ذبح کر دیتے ہیں۔“ لقیط بن صبرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! میری عورت بری زبان والی ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو طلاق دے دے۔“ میں نے کہا: میں نے اس کے ساتھ وقت گزارا اور میری اس سے اولاد بھی ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو نصیحت کر اگر اس میں خیر ہوئی تو وہ قبول کر لے گی، اور اپنی بیوی کو لونڈی کی طرح نہ مارو۔“ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! مجھے وضو کے متعلق بتائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وضو اچھی طرح پورا کرو، انگلیوں کا خلال کرو، اور ناک میں پانی اچھی طرح چڑھایا کرو مگر روزہ کی حالت میں (ایسا نہ کرو)۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 51]
تخریج الحدیث: «أخرجه أبو داود: الطهارة، باب في الاستنثار: (142) والترمذي: الطهارة، باب ما جاء في تخليل الأصابع: (38) - وقال: ”حسن صحيح“ وصححه ابن الجارود: (80) وابن خزیمه (150) (168) والحاكم: 1/ 148.»
حدیث نمبر: 52
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي فُدَيْكٍ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ بَشِيرِ بْنِ مُحْرِزٍ، عَنْ سَالِمٍ سَبَلَانَ مَوْلَى النَّصْرِيِّينَ، قَالَ: خَرَجْنَا مَعَ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى مَكَّةَ، وَكَانَتْ تَخْرُجُ بِأَبِي حَتَّى يُصَلِّيَ بِهَا. قَالَ: فَأُتِيَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي بَكْرٍ بِوَضُوءٍ. فَقَالَتْ عَائِشَةُ زَوْجُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ أَسْبِغِ الْوُضُوءَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
سالم رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ ہم اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ مکہ کے لیے نکلے، اور وہ میرے باپ کے ساتھ نکلتی تھیں اور ان کے ساتھ نماز بھی پڑھتیں، سالم کہتے ہیں عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ کے لیے وضو کا پانی لایا گیا تو اُم المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: اے عبدالرحمن وضو اچھی طرح پورا کرو۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ”قیامت کے دن ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 52]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: الطهارة، باب وجوب غسل الرجلين بكمالهما: (240).»
حدیث نمبر: 53
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا أَنَّهَا قَالَتْ لِعَبْدِ الرَّحْمَنِ: أَسْبِغِ الْوُضُوءَ يَا عَبْدَ الرَّحْمَنِ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:"وَيْلٌ لِلْأَعْقَابِ مِنَ النَّارِ" . أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْوُضُوءِ، وَالثَّانِيَ وَالثَّالِثَ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ انہوں نے (اپنے بھائی) عبدالرحمن سے کہا: اے عبدالرحمن وضو اچھی طرح پورا کرو! میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ فرما رہے تھے: ”ایڑیوں کے لیے آگ کا عذاب ہے۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الطَّهَارَةِ/حدیث: 53]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابن ماجة: الطهارة، باب غسل العراقيب: (452).»