🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

صحیح بخاری میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (7563)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

17. بَابُ اسْتِقْبَالِ الإِمَامِ النَّاسَ فِي خُطْبَةِ الْعِيدِ:
باب: امام عید کے خطبے میں لوگوں کی طرف منہ کر کے کھڑا ہو۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: Q976
قَالَ أَبُو سَعِيدٍ: قَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُقَابِلَ النَّاسِ.
‏‏‏‏ ابوسعید فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے کھڑے ہوئے۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: Q976]

اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 976
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ طَلْحَةَ، عَنْ زُبَيْدٍ، عَنِ الشَّعْبِيِّ، عَنْ الْبَرَاءِ، قَالَ:" خَرَجَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ أَضْحًى إِلَى الْبَقِيعِ فَصَلَّى رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ أَقْبَلَ عَلَيْنَا بِوَجْهِهِ، وَقَالَ: إِنَّ أَوَّلَ نُسُكِنَا فِي يَوْمِنَا هَذَا أَنْ نَبْدَأَ بِالصَّلَاةِ، ثُمَّ نَرْجِعَ فَنَنْحَرَ، فَمَنْ فَعَلَ ذَلِكَ فَقَدْ وَافَقَ سُنَّتَنَا، وَمَنْ ذَبَحَ قَبْلَ ذَلِكَ فَإِنَّمَا هُوَ شَيْءٌ عَجَّلَهُ لِأَهْلِهِ لَيْسَ مِنَ النُّسُكِ فِي شَيْءٍ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي ذَبَحْتُ وَعِنْدِي جَذَعَةٌ خَيْرٌ مِنْ مُسِنَّةٍ، قَالَ: اذْبَحْهَا وَلَا تَفِي عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ".
ہم سے ابونعیم فضل بن دکین نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے محمد بن طلحہ نے بیان کیا، ان سے زبید نے، ان سے شعبی نے، ان سے براء بن عازب رضی اللہ عنہ نے، انہوں نے کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحی کے دن بقیع کی طرف تشریف لے گئے اور دو رکعت عید کی نماز پڑھائی۔ پھر ہماری طرف چہرہ مبارک کر کے فرمایا کہ سب سے مقدم عبادت ہمارے اس دن کی یہ ہے کہ پہلے ہم نماز پڑھیں پھر (نماز اور خطبے سے) لوٹ کر قربانی کریں۔ اس لیے جس نے اس طرح کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کیا اور جس نے نماز سے پہلے ذبح کر دیا تو وہ ایسی چیز ہے جسے اس نے اپنے گھر والوں کے کھلانے کے لیے جلدی سے مہیا کر دیا ہے اور اس کا قربانی سے کوئی تعلق نہیں۔ اس پر ایک شخص نے کھڑے ہو کر عرض کیا کہ یا رسول اللہ! میں نے تو پہلے ہی ذبح کر دیا۔ لیکن میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے اور وہ دوندی بکری سے زیادہ بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ خیر تم اسی کو ذبح کر لو لیکن تمہارے بعد کسی کی طرف سے ایسی پٹھیا جائز نہ ہو گی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 976]
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم عید الاضحیٰ کے دن نکلے اور دو رکعت نمازِ عید ادا کی، پھر ہماری طرف رخ کر کے کھڑے ہوئے اور فرمایا: ہماری اس دن سب سے پہلی عبادت یہ ہونی چاہیے کہ ہم نماز پڑھیں، پھر واپس ہوں اور قربانی کریں۔ جس نے ایسا کیا اس نے ہماری سنت کے مطابق کام کیا اور جس نے نماز سے پہلے قربانی ذبح کر دی تو وہ گوشت ہے جو اس نے اپنے گھر والوں کے لیے تیار کیا ہے، قربانی نہیں ہے۔ اس دوران میں ایک شخص کھڑا ہوا اور عرض کرنے لگا: اے اللہ کے رسول! میں نے تو (نماز سے پہلے قربانی) ذبح کر دی ہے اور اب میرے پاس ایک سالہ بھیڑ کا بچہ ہے جو دو دانتے سے کہیں بہتر ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسی کو ذبح کر دو لیکن تمہارے بعد کسی اور کے لیے کافی نہیں ہوگا۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْعِيدَيْنِ/حدیث: 976]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»

الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة
مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں