مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
14. بَابُ التَّعْزِيَةِ وَالطَّعَامِ لِآلِ الْمَيِّتِ
تعزیت اور میت کے گھر والوں کے لیے کھانے کا بیان
حدیث نمبر: 603
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَجَاءَتِ التَّعْزِيَةُ سَمِعُوا قَائِلًا يَقُولُ: وَإِنَّ فِي اللَّهِ عَزَاءً مِنْ كُلِّ مُصِيبَةٍ، وَخَلَفًا مِنْ كُلِّ هَالِكٍ، وَدَرَكًا مِنْ كُلِّ مَا فَاتَ، فَبِاللَّهِ فَثِقُوا، وَإِيَّاهُ فَارْجُوا، فَإِنَّ الْمُصَابَ مَنْ حُرِمَ الثَّوَابَ.
جعفر بن محمد اپنے باپ سے روایت ہے ان کے دادا سے مروی ہے انہوں نے کہا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فوت ہوئے اور تعزیت کرنے والے آئے تو انہوں نے ایک آدمی کو کہتے ہوئے سنا کہ اللہ کی طرف سے ہر مصیبت میں تعزیت کرنے والے ہوتے ہیں، اور ہر ہلاک ہونے والے کے خلفاء ہوتے ہیں، اور ہر فوت ہو جانے والے سے وراثت پانے والے ہوتے ہیں، اللہ کے لیے اعتماد پیدا کرو، اور اسی سے امید رکھو، اصل مصیبت والا تو وہ ہے جسے ثواب سے محروم کر دیا گیا۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 603]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف جدا، فان القاسم بن عبدالله بن عمر متروك: اخرجه البيهقي: 4/ 60 . وفي المعرفة السنن والآثار له (2188).»
حدیث نمبر: 604
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ جَعْفَرٍ، قَالَ: لَمَّا جَاءَ نَعْيُ جَعْفَرٍ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"اجْعَلُوا لِآلِ جَعْفَرٍ طَعَامًا، فَإِنَّهُ قَدْ جَاءَهُمْ أَمْرٌ يَشْغَلُهُمْ أَوْ مَا يَشْغَلُهُمْ" ، شَكَّ سُفْيَانُ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْجَنَائِزِ.
عبد اللہ بن جعفر بیان فرماتے ہیں کہ جب جعفر رضی اللہ عنہ کی شہادت کی خبر آئی تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جعفر کے گھر والوں کے لیے کھانا تیار کرو، کیونکہ ان کے پاس ایک ایسی خبر آئی ہے جس نے ان کو مشغول کر دیا یا جو ان کو مشغول کر دے گی۔ راوی سفیان کو شک گزرا ہے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الجَنَائِزِ/حدیث: 604]
تخریج الحدیث: «اخرجه ابوداود، الجنائز، باب صنعة الطعام لأهل البيت (3122) والترمذى، الجنائز، باب ماجاء في الطعام يصنع لأهل الميت (998) وقال حسن صحيح وابن ماجة، الجنائز، باب ماجاء في الطعام يبعث الى اهل الميت (1610) وصححه الحلكم: 1/372 . ووافقه الذهبي.»