مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
8. بَابُ الصَّدَقَةِ مِنَ الْكَسْبِ الطَّيِّبِ وَالْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ
پاکیزہ کمائی سے صدقہ کرنے اور خرچ کرنے والے اور بخیل کا بیان۔
حدیث نمبر: 686
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا الْقَاسِمِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:"وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا مِنْ عَبْدٍ يَتَصَدَّقُ بِصَدَقَةٍ مِنْ كَسْبٍ طَيِّبٍ، وَلَا يَقْبَلُ اللَّهُ إِلَّا طَيِّبًا، وَلَا يَصْعَدُ إِلَى [ ص: 138 ] اللَّهِ، إِلَّا طَيِّبٌ إِلَّا كَأَنَّمَا يَضَعُهَا فِي يَدِ الرَّحْمَنِ عَزَّ وَجَلَّ فَيُرَبِّيهَا لَهُ كَمَا يُرَبِّي أَحَدُكُمْ فَلُوَّهُ حَتَّى إِنَّ اللُّقْمَةَ لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ، وَإِنَّهَا لَمِثْلُ الْجَبَلِ الْعَظِيمِ". ثُمَّ قَرَأَ: أَنَّ اللَّهَ هُوَ يَقْبَلُ التَّوْبَةَ عَنْ عِبَادِهِ وَيَأْخُذُ الصَّدَقَاتِ [التَّوْبَةِ: 104] .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے بیان کرتے ہیں کہ میں نے ابوالقاسم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا آپ فرما رہے تھے، ”مجھے اس ذات کی قسم! جس کے ہاتھ میں میری جان ہے جو شخص حلال کمائی سے صدقہ کرے، اور اللہ تعالیٰ صرف حلال (کمائی) (کے صدقے) کو ہی قبول فرماتے ہیں اور اللہ کی طرف صرف حلال کمائی کا صدقہ ہی جاتا ہے۔ یہ اسی طرح جیسے کوئی (اللہ) رحمان کے ہاتھ میں رکھتا ہے، پھر وہ (اللہ) اس میں صدقہ کرنے والے کے لیے اضافہ کرتا ہے، جس طرح کہ تم میں سے کوئی اپنے جانور کے بچے کو کھلا پلا کر بڑھاتا ہے۔ یہاں تک کہ ایک لقمہ قیامت کے دن اس کے لیے بہت بڑے پہاڑ کے برابر ہو کر آئے گا۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: ”اللہ تعالی ہی اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور وہی صدقات کو قبول کرتا ہے۔“ (التوبہ: 104) [مسند امام شافعی/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 686]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى، الزكاة، باب الصدقة، من كسب طيب لقوله ويربي الصدقات ..... الخ) (1410) . ومسلم، الزكاة، باب قبول الصدقة من الكسب الطيب وتربيتها (1014).»
حدیث نمبر: 687
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَثَلُ الْمُنْفِقِ وَالْبَخِيلِ كَمَثَلِ رَجُلَيْنِ عَلَيْهِمَا جُبَّتَانِ أَوْ جُنَّتَانِ مِنْ لَدُنْ ثَدْيَيْهِمَا إِلَى تَرَاقِيهِمَا فَإِذَا أَرَادَ الْمُنْفِقُ أَنْ يُنْفِقَ سَبَغَتْ عَلَيْهِ الدِّرْعُ أَوْ مَرَّتْ حَتَّى [ ص: 139 ] تُجِنَّ ثِيَابَهُ وَتَعْفُوَ أَثَرَهُ، وَإِذَا أَرَادَ الْبَخِيلُ أَنْ يُنْفِقَ قَلَصَتْ وَلَزِمَتْ كُلُّ حَلْقَةٍ مَوْضِعَهَا حَتَّى تَأْخُذَ بِعُنُقِهِ أَوْ تَرْقُوَتِهِ فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَّسِعُ" .
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، بیان فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صدقہ دینے والے اور کنجوس انسان کی مثال ایسے دو شخصوں کی طرح ہے جن پر دو کرتے یا زرہیں ہیں جو چھاتی سے لے کر ہنسلی تک ہیں۔ جب خرچ کرنے والا (سخی) خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے تو وہ زرہ اس کے جسم کو چھپا لیتی ہے یا وہ (جسم سے) تجاوز کر جاتا ہے حتیٰ کہ اس کے کپڑوں کو ڈھانپ لیتی ہے اور چلنے میں اس کا نشان مٹتا جاتا ہے، اور جب کنجوس خرچ کرنے کا ارادہ کرتا ہے، تو وہ (کرتا) تنگ ہو جاتا ہے اور ہر حلقہ اپنی جگہ سے چمٹ جاتا ہے، حتیٰ کہ وہ اس کی گردن یا گلے کو (بھی دبا لیتا ہے)۔ بخیل اس کو کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، لیکن وہ کشادہ نہیں ہو پاتا۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 687]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى الزكاة، باب مثل البخيل والمتصدق (1443) . ومسلم، الزكاة، باب مثل المنفق والبخيل (1021).»
حدیث نمبر: 688
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنِ الْحَسَنِ بْنِ مُسْلِمٍ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِثْلَهُ إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:"فَهُوَ يُوَسِّعُهَا وَلَا تَتَوَسَّعُ" . أَخْرَجَ الثَّلَاثَةَ الْأَحَادِيثَ مِنْ كِتَابِ الزَّكَاةِ.
ایک دوسری سند سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کے واسطہ سے اسی طرح مروی ہے مگر اس میں الفاظ یہ ہیں: ”کہ وہ اسے کشادہ کرنے کی کوشش کرتا ہے لیکن کر نہیں پاتا۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الزَّكَاةِ/حدیث: 688]
تخریج الحدیث: «اخرجه البخارى الزكاة، باب مثل البخيل والمتصدق (1443) . ومسلم، الزكاة، باب مثل المنفق والبخيل (1021).»