مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
5. بَابٌ مِنْهُ
اسی کے متعلق ایک باب کا بیان
حدیث نمبر: 1047
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ الثَّقَفِيُّ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ، قَالَ: سُبِيَتِ امْرَأَةٌ مِنَ الْأَنْصَارِ وَكَانَتِ النَّاقَةُ قَدْ أُصِيبَتْ قَبْلَهَا. قَالَ الشَّافِعِيُّ: كَأَنَّهُ يَعْنِي نَاقَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِأَنَّ آخِرَ الْحَدِيثِ يَدُلُّ عَلَى ذَلِكَ، قَالَ عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ: فَكَانَتْ تَكُونُ فِيهِمْ فَكَانُوا يَجِيئُونَ بِالنَّعَمِ إِلَيْهِمْ، فَانْفَلَتَتْ ذَاتَ لَيْلَةٍ مِنَ الْوَثَاقِ فَأَتَتِ الْإِبِلَ، فَجَعَلَتْ كُلَّمَا أَتَتْ بَعِيرًا مِنْهَا فَمَسَّتْهُ رَغَا، فَتَتَرْكُهُ حَتَّى أَتَتْ تِلْكَ النَّاقَةَ فَمَسَّتْهَا فَلَمْ تَرْغُ، وَهِيَ نَاقَةٌ هَدِرَةٌ، فَقَعَدَتْ فِي عَجُزِهَا، ثُمَّ صَاحَتْ بِهَا، فَانْطَلَقَتْ، فَطُلِبَتْ مِنْ لَيْلَتِهَا، فَلَمْ يُقْدَرْ عَلَيْهَا، فَجَعَلَتْ للَّهِ عَلَيْهَا إِنْ أَنْجَاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا، فَلَمَّا قَدِمَتِ الْمَدِينَةَ عَرَفُوا النَّاقَةَ، وَقَالُوا: نَاقَةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنَّهَا قَدْ جَعَلَتْ عَلَيْهَا إِنْ أَنْجَاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا، فَقَالُوا: وَاللَّهِ لَا تَنْحِرِيهَا حَتَّى نُؤْذِنَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَتَوْهُ فَأَخْبَرُوهُ: أَنَّ فُلَانَةَ قَدْ جَاءَتْ عَلَى نَاقَتِكَ، وَإِنَّهَا قَدْ جَعَلَتْ للَّهِ عَلَيْهَا إِنْ أَنْجَاهَا اللَّهُ عَلَيْهَا لَتَنْحَرَنَّهَا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: سُبْحَانَ اللَّهِ! بِئْسَمَا جَزَتْهَا أَنْ أَنْجَاهَا اللَّهُ لَتَنْحَرَنَّهَا لَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ، وَلَا وَفَاءَ لِنَذْرٍ فِيمَا لَا يَمْلِكُ الْعَبْدُ أَوْ قَالَ: ابْنُ آدَمَ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: انصار سے ایک عورت قید ہوگئی، جبکہ اونٹنی (عضباء) اس سے پہلے قید ہو چکی تھی۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: شاید وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ہے کیونکہ حدیث کا آخری حصہ اسی پر دلالت کرتا ہے۔ عمران بن حصین رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ عورت ان (کافروں) میں (قید) تھی اور وہ اپنے اونٹ اس کے پاس لاتے، ایک رات وہ عورت قید سے بھاگ نکلی اور اونٹوں کے پاس آئی، وہ جس اونٹ کے پاس جاتی اسے ہاتھ لگاتی تو وہ آواز نکالتا، وہ اس کو چھوڑ دیتی یہاں تک کہ وہ اس اونٹنی کے پاس آئی اور اس کو ہاتھ لگایا تو اس نے آواز نہ نکالی۔ اور یہ بڑی زور آور اونٹنی تھی۔ عورت اس کی پیٹھ پر بیٹھ گئی پھر اس عورت نے اسے ڈانٹا تو وہ چل پڑی۔ اس رات اس کی تلاش کی گئی لیکن اس پر وہ (کافر) قدرت حاصل نہ کر سکے، اس عورت نے یہ نذر مانی کہ اگر اللہ نے اسے اس پر بچا لیا تو وہ اس کو قربان کر دے گی۔ جب وہ عورت مدینہ آئی تو لوگوں نے اونٹنی کو پہچان لیا اور انہوں نے کہا: یہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی ہے۔ تو اس عورت نے کہا کہ اس نے تو اس کی نذر مان لی ہے کہ اگر اللہ نے مجھے اس پر نجات دی تو اس کو نحر کروں گی۔ یہ سن کر صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: اللہ کی قسم! تو اس کو نحر نہ کرنا یہاں تک کہ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے لیں۔ وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور آپ کو ساری بات بتائی کہ فلاں عورت آپ کی اونٹنی پر آئی ہے اور اس نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے اسے اس پر بچایا تو وہ اس کو نحر کرے گی، اس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے (تعجب سے) فرمایا: ”سبحان اللہ! اس عورت نے برا بدلہ دیا کہ اللہ نے اسے نجات دی تو وہ اسے نحر کر دے گی، جس میں اللہ کی نافرمانی ہو اور جس کا انسان یا ابن آدم مالک نہیں ہے، اس میں نذر نہیں ہے۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 1047]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم النذر، باب لا وفاء لنذر في معصية الله ولا فيما لا يملك العبد (1641).»
حدیث نمبر: 1048
أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، وَعَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، [ ص: 298 ] عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ قَوْمًا أَغَارُوا فَأَصَابُوا امْرَأَةً مِنَ الْأَنْصَارِ وَنَاقَةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَانَتِ الْمَرْأَةُ وَالنَّاقَةُ عِنْدَهُمْ ثُمَّ انْفَلَتَتِ الْمَرْأَةُ فَرَكِبَتِ النَّاقَةَ فَأَتَتِ الْمَدِينَةَ فَعُرِفَتْ نَاقَةُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: إِنِّي نَذَرْتُ لَأَنْ أَنْجَانِيَ اللَّهُ عَلَيْهَا لَأَنْحَرَنَّهَا فَمَنَعُوهَا أَنْ تَنْحَرَهَا حَتَّى يَذْكُرُوا ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ:"بِئْسَمَا جَزَيْتِهَا أَنْ نَجَّاكِ اللَّهُ عَلَيْهَا أَنْ تَنْحَرِيهَا لَا نَذْرَ فِي مَعْصِيَةِ اللَّهِ وَلَا فِيمَا لَا يَمْلِكُ ابْنُ آدَمَ". وَقَالَا مَعًا أَوْ أَحَدُهُمَا فِي الْحَدِيثِ وَأَخَذَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَاقَتَهُ. أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ الْأُسَارَى وَالْغُلُولِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ السَّيْرِ عَلَى الْوَاقِدِيِّ.
عمران بن حصین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک قوم نے یلغار کی تو وہ انصار کی ایک عورت اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی کو لے گئے۔ عورت اور اونٹنی ان کے پاس تھے، پھر عورت بھاگ نکلی اور اونٹنی پر سوار ہوئی۔ مدینہ آئی تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اونٹنی پہچان لی گئی۔ اس عورت نے کہا: میں نے نذر مانی ہے کہ اگر اللہ نے مجھے اس کی پیٹھ پر بچا لیا تو میں اس کو نحر کروں گی۔ صحابہ رضی اللہ عنہم نے اسے ذبح کرنے سے روک دیا یہاں تک کہ وہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ بات بیان کریں، جب انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے بات کی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”برا بدلہ دیا تو نے اس کو، یہ کہ اللہ نے تجھے اس کی پیٹھ پر نجات دی اور تو اس کو نحر کرے گی۔ اللہ کی نافرمانی اور جس کا ابن آدم مالک نہ ہو اس میں نذر نہیں ہے۔“ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: سفیان اور عبد الوہاب دونوں نے اکٹھا کہا یا ان میں سے ایک نے حدیث میں فرمایا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی اونٹھی کو پکڑ لیا۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ النُّذُورِ/حدیث: 1048]
تخریج الحدیث: «اخرجه مسلم النذر، باب لا وفاء لنذر في معصية الله ولا فيما لا يملك العبد (1641).»