مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ الْعِتْقِ فِي مَرَضِ الْمَوْتِ
مرض الموت میں غلام آزاد کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 1072
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي قَيْسُ بْنُ سَعْدٍ: أَنَّهُ سَمِعَ مَكْحُولًا، يَقُولُ: سَمِعْتُ ابْنَ الْمُسَيِّبِ، يَقُولُ: أَعْتَقَتِ امْرَأَةٌ أَوْ رَجُلٌ سِتَّةَ أَعْبُدٍ لَهَا، وَلَمْ يَكُنْ لَهَا مَالٌ غَيْرُهُ فَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي ذَلِكَ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعْتَقَ ثُلُثَهُمْ. قَالَ الشَّافِعِيُّ: كَانَ ذَلِكَ فِي مَرَضِ الْمُعْتِقِ الَّذِي مَاتَ فِيهِ.
سعید بن مسیب رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ ایک عورت یا ایک مرد نے اپنے چھ غلام آزاد کیے، جبکہ اس کا اس کے علاوہ اور کوئی مال نہیں تھا۔ اس معاملہ کو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان غلاموں کے درمیان قرعہ اندازی کی اور ان میں سے ثلث (یعنی دو) کو آزاد کر دیا۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: یہ آزاد کرنے والے کی اس بیماری کا واقعہ ہے جس میں وہ فوت ہوا۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ العِتْقِ وَالوَلَاءِ وَالمُدَبَّرِ وَالمُكَاتَبِ وَحُسْنِ المَلَكَةِ/حدیث: 1072]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق: اخرجه مسلم الایمان، باب من اعتق شركاله في عبد (1667).»
حدیث نمبر: 1073
أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ أَبِي قِلَابَةَ، عَنْ أَبِي الْمُهَلَّبِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ: أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْأَنْصَارِ أَوْصَى عِنْدَ مَوْتِهِ فَأَعْتَقَ سِتَّةَ مَمَالِيكَ، وَلَيْسَ لَهُ مَالٌ غَيْرَهُمْ، أَوْ قَالَ: أَعْتَقَ عِنْدَ مَوْتِهِ سِتَّةَ مَمَالِيكَ وَلَيْسَ لَهُ شَيْءٌ غَيْرَهُمْ، فَبَلَغَ ذَلِكَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ فِيهِ قَوْلًا شَدِيدًا ثُمَّ دَعَاهُمْ فَجَزَّأَهُمْ ثَلَاثَةَ أَجْزَاءٍ، فَأَقْرَعَ بَيْنَهُمْ فَأَعَتْقَ اثْنَيْنِ وَأَرَقَّ أَرْبَعَةً. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنَ الْجُزْءِ الثَّانِي مِنَ اخْتِلَافِ الْحَدِيثِ.
عمران بن حسین رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انصار میں سے ایک آدمی نے اپنی موت کے وقت وصیت کی اور چھ غلاموں کو آزاد کر دیا، اور اس کا ان کے علاوہ کوئی مال نہیں تھا۔ یا فرمایا (راوی کو شک ہے کہ الفاظ یہ تھے کہ) اپنی موت کے وقت چھ غلاموں کو آزاد کیا اور اس کے پاس ان کے علاوہ کچھ نہیں تھا۔ یہ بات نبی صلی اللہ علیہ وسلم تک پہنچی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس پر سخت ناراضگی کا اظہار فرمایا، پھر ان غلاموں کو بلایا اور ان کو تین حصوں میں تقسیم کر کے قرعہ اندازی کے ذریعے دو کو آزاد کر دیا، اور چار کو غلام (ورثاء کی ملکیت) برقرار رکھا۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ العِتْقِ وَالوَلَاءِ وَالمُدَبَّرِ وَالمُكَاتَبِ وَحُسْنِ المَلَكَةِ/حدیث: 1073]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق برقم (1072).»