🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

42. باب فِيمَنْ سَأَلَ اللَّهَ تَعَالَى الشَّهَادَةَ
باب: اللہ تعالیٰ سے شہادت مانگنے والے شخص کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2541
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ خَالِدٍ أَبُو مَرْوَانَ، وَابْنُ الْمُصَفَّى، قَالَا: حَدَّثَنَا بَقِيَّةُ، عَنْ ابْنِ ثَوْبَانَ، عَنْ أَبِيهِ يُرَدُّ إِلَى مَكْحُولٍ إِلَى مَالِكِ بْنِ يُخَامِرَ، أَنَّ مُعَاذَ بْنَ جَبَلٍ. حدَّثَهُمْ، أَنَّهُ سَمِعَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" مَنْ قَاتَلَ فِي سَبِيلِ اللَّهِ فُوَاقَ نَاقَةٍ فَقَدْ وَجَبَتْ لَهُ الْجَنَّةُ، وَمَنْ سَأَلَ اللَّهَ الْقَتْلَ مِنْ نَفْسِهِ صَادِقًا ثُمَّ مَاتَ أَوْ قُتِلَ فَإِنَّ لَهُ أَجْرَ شَهِيدٍ، زَادَ ابْنُ الْمُصَفَّى مِنْ هُنَا، وَمَنْ جُرِحَ جُرْحًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ نُكِبَ نَكْبَةً فَإِنَّهَا تَجِيءُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ كَأَغْزَرِ مَا كَانَتْ لَوْنُهَا لَوْنُ الزَّعْفَرَانِ وَرِيحُهَا رِيحُ الْمِسْكِ وَمَنْ خَرَجَ بِهِ خُرَاجٌ فِي سَبِيلِ اللَّهَ فَإِنَّ عَلَيْهِ طَابَعَ الشُّهَدَاءِ".
معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا: جس نے اللہ کے راستہ میں اونٹنی دوہنے والے کے دو بار چھاتی پکڑنے کے درمیان کے مختصر عرصہ کے بقدر بھی جہاد کیا اس کے لیے جنت واجب ہو گئی، اور جس شخص نے اللہ سے سچے دل کے ساتھ شہادت مانگی پھر اس کا انتقال ہو گیا، یا قتل کر دیا گیا تو اس کے لیے شہید کا اجر ہے، اور جو اللہ کی راہ میں زخمی ہوا یا کوئی چوٹ پہنچایا ۱؎ گیا تو وہ زخم قیامت کے دن اس سے زیادہ کامل شکل میں ہو کر آئے گا جتنا وہ تھا، اس کا رنگ زعفران کا اور بو مشک کی ہو گی اور جسے اللہ کے راستے میں پھنسیاں (دانے) نکل آئیں تو اس پر شہداء کی مہر لگی ہو گی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2541]
سیدنا معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سنا آپ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے تھے: اگر کسی نے اونٹنی کو دوبارہ دوہنے کے وقفہ کے برابر بھی قتال کیا تو اس کے لیے جنت واجب ہے، اور جس نے اللہ سے سچے دل سے قتل فی سبیل اللہ کی دعا مانگی پھر فوت ہو گیا یا قتل کر دیا گیا تو اس کے لیے شہید کا ثواب ہے۔ ابن المصفی نے یہاں اضافہ کیا: اور جسے (دشمن کی طرف سے) اللہ کی راہ میں کوئی زخم آ گیا یا کوئی چوٹ لگ گئی تو قیامت کے دن وہ زخم اسی طرح (تازہ) اور بڑا ہو گا جیسے کہ وہ تھا، اس کے خون کا رنگ زعفران کا اور خوشبو کستوری کی ہو گی، اور جسے اللہ کی راہ میں کوئی پھوڑا نکل آیا تو اس پر شہیدوں کے جیسی مہر ہو گی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2541]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/فضائل الجھاد 19 (1654)، 21 (1956)، سنن النسائی/الجھاد 25 (3143)، سنن ابن ماجہ/الجھاد 15 (2792)، (تحفة الأشراف: 11359)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/230، 235، 243، 244) سنن الدارمی/الجھاد 5 (2439) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: «جرح» اور «نکبۃ» دونوں ایک معنیٰ میں ہیں اور ایک قول کے مطابق «جرح» وہ زخم جو کافروں سے پہنچے، اور «نکبۃ» وہ ہے جو سواری سے گرنے اور اپنے ہی ہتھیار کے اچٹ کر لگنے کی وجہ سے ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
مشكوة المصابيح (3825)
رواه الترمذي (1657 وسنده صحيح) والنسائي (3143 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں