مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. بَابُ النَّهْيِ عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ
عورتوں کے پچھلے راستے میں جماع کرنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 1198
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمِّي مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَافِعٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيِّ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أُحَيْحَةَ بْنِ الْجَلَاحِ أَوْ عَنْ عَمْرِو بْنِ فُلَانِ بْنِ أُحَيْحَةَ بْنِ الْجَلَاحِ، قَالَ الشَّافِعِيُّ: أَنَا شَكَكْتُ، عَنْ خُزَيْمَةَ بْنِ ثَابِتٍ: أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ إِتْيَانِ النِّسَاءِ فِي أَدْبَارِهِنَّ أَوْ إِتْيَانِ الرَّجُلِ امْرَأَتَهُ فِي دُبُرِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"حَلَالٌ"، فَلَمَّا وَلَّى الرَّجُلُ دَعَاهُ أَوْ أَمَرَ بِهِ فَدُعِيَ، فَقَالَ:"كَيْفَ قُلْتَ؟ فِي أَيِّ [ ص: 74 ] الْخَرْتَيْنِ أَوْ فِي الْخَرَزَتَيْنِ أَوْ فِي الْخَصْفَتَيْنِ أَمِنْ دُبُرِهَا فِي قُبُلِهَا فَنَعَمْ أَمْ مِنْ دُبُرِهَا فِي دُبُرِهَا فَلَا، فَإِنَّ اللَّهَ لَا يَسْتَحْيِي مِنَ الْحَقِّ، لَا تَأْتُوا النِّسَاءَ فِي أَدْبَارِهِنَّ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ: فَمَا تَقُولُ؟ قُلْتُ: عَمِّي ثِقَةٌ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَلِيٍّ ثِقَةٌ، وَقَالَ: أَخْبَرَنِي مُحَمَّدٌ، عَنِ الْأَنْصَارِيِّ الْمُحَدِّثِ بِهَا أَنَّهُ أَثْنَى عَلَيْهِ خَيْرًا وَخُزَيْمَةُ مِمَّنْ لَا يَشُكُّ عَالِمٌ فِي ثِقَتِهِ فَلَسْتُ أُرَخِّصُ فِيهِ بَلْ أَنْهَى عَنْهُ. أَخْرَجَهُ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ.
خزیمہ بن ثابت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پچھلی جانب سے عورتوں سے صحبت کرنے یا آدمی کے اپنی بیوی سے مقعد میں صحبت سے متعلق دریافت کیا (یہ امام شافعی رحمہ اللہ کو الفاظ کا شک ہے) تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جائز ہے“۔ جب وہ آدمی واپس مڑا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو بلایا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا اور اس کو لایا گیا اور اس سے پوچھا: ”تم نے کیا کہا؟ دو شرمگاہوں میں سے کس میں؟ کیا پیچھے سے اگلی شرمگاہ میں؟ اگر اس طرح ہے تو درست ہے، یا پیچھے سے مقعد ہی میں؟ اگر یہ مطلب ہے تو ناجائز ہے۔ بے شک اللہ تعالیٰ حق بات سے نہیں شرماتے، تم عورتوں کے پاس ان کی دبر میں نہ آؤ“۔ امام شافعی رحمہ اللہ نے فرمایا: انہوں نے کہا آپ اس سند کے متعلق کیا کہتے ہیں؟ تو میں نے کہا: میرا چچا اور عبداللہ بن علی بن السائب دونوں ثقہ ہیں۔ اور فرمایا مجھے محمد رحمہ اللہ نے محدث انصاری کے متعلق بتایا کہ اس نے اس کے بارے میں اچھے کلمات کہے ہیں اور خزیمہ ان راویوں میں سے ہیں جن کی ثقاہت میں کوئی بھی عالم شک نہیں کر سکتا، اسی لیے میں عورتوں سے مقعد میں صحبت کو جائز قرار نہیں دیتا بلکہ میں اس سے منع کرتا ہوں۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ عِشْرَةِ النِّسَاءِ وَالإِيلَاءِ وَالخُلْعِ/حدیث: 1198]
تخریج الحدیث: «اخرجه البيهقي: 7 / 196 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4220) وابن ماجة، النكاح، باب النهي عن اتيان النساء في ادبارهن (1924) وصححه ابن الجارود (728) وابن حبان.»