🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

مسند الشافعی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (1819)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

4. بَابٌ فِي تَمْلِيکِ الْمَرْأَةِ أَمْرَهَا
عورت کو اس کے معاملے کا اختیار دینے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1286
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ نَافِعٍ: كَانَ ابْنُ عُمَرَ [ ص: 116 ] يَقُولُ: إِذَا مَلَّكَ الرَّجُلُ امْرَأَتَهُ، فَالْقَضَاءُ مَا قَضَتْ إِلَّا أَنْ يُنَاكِرَهَا الرَّجُلُ، فَيَقُولَ: لَمْ أُرِدْ إِلَّا تَطْلِيقَةً وَاحِدَةً فَيَحْلِفُ عَلَى ذَلِكَ، وَيَكُونُ أَمْلَكَ لَهَا مَا كَانَتْ فِي عِدَّتِهَا.
نافع رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ابن عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب آدمی اپنی بیوی کو طلاق کا مالک بنا دے، تو فیصلہ وہی ہے جو عورت نے کیا سوائے اس کے کہ مرد اس کا انکار کرے اور کہے، میں نے ایک طلاق کا ارادہ کیا تھا (یعنی اسے ایک طلاق کا اختیار دیا تھا) اور وہ اس بات پر قسم بھی اٹھائے، اور وہ خاوند جب تک عورت عدت میں ہے اس کے بارے میں زیادہ اختیار والا ہے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 1286]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البیهقی: 348/7 . وفي المعرفة السنن والآثار له (4446) - وعبد الرزاق (11905)، (11906) - ومالك فى الموطأ، الطلاق، باب ما يبين من التمليك.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1287
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، عَنْ خَارِجَةَ بْنِ زَيْدٍ: أَنَّهُ أَخْبَرَهُ أَنَّهُ كَانَ جَالِسًا عِنْدَ زَيْدِ بْنِ ثَابِتٍ، فَأَتَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَتِيقٍ وَعَيْنَاهُ تَدْمَعَانِ، فَقَالَ لَهُ زَيْدُ بْنُ ثَابِتٍ: مَا شَأْنُكَ؟ قَالَ: مَلَّكْتُ امْرَأَتِي أَمْرَهَا فَفَارَقَتْنِي، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: مَا حَمَلَكَ عَلَى ذَلِكَ؟ فَقَالَ لَهُ: الْقَدَرُ، فَقَالَ لَهُ زَيْدٌ: ارْتَجِعْهَا إِنْ شِئْتَ، فَإِنَّمَا هِيَ وَاحِدَةٌ، وَأَنْتَ أَمْلَكُ بِهَا. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ فِي كِتَابِ اخْتِلَافِ مَالِكٍ وَالشَّافِعِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا.
خارجہ بن زید رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ وہ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کے پاس بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کے پاس محمد بن ابی عتیق روتے ہوئے آئے۔ زید بن ثابت رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا، تجھے کیا ہوا؟ اس نے کہا میں نے عورت کو اس کے معاملے کا اختیار دیا تو اس نے مجھے اپنے آپ سے جدا کر دیا، زید رضی اللہ عنہ نے اس سے پوچھا، تو نے یہ کام کیوں کیا؟ اس نے جواب دیا، تقدیر میں ایسا ہی تھا۔ پھر زید رضی اللہ عنہ نے اسے کہا، اگر تو چاہے تو اس سے رجوع کرلے، کیونکہ یہ ایک ہی طلاق ہے، اور تو اس کا اب بھی زیادہ مالک ہے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الرَّجْعَةِ/حدیث: 1287]
تخریج الحدیث: «اسناده صحیح اخرجه البيهقي: 348/7 - وفى المعرفة السنن والآثار له (4445) - وعبد الرزاق (11993). ومالك في الموطأ الطلاق، باب ما يحب فيه تطليقة واحدة من التمليك.»

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں