مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. بَابُ مِقْدَارِ الْحَدِّ
حد کی مقدار کا بیان
حدیث نمبر: 1562
حَدَّثَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ مَعْمَرٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَزْهَرَ، قَالَ: رَأَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَامَ حُنَيْنٍ يَسْأَلُ عَنْ رَحْلِ خَالِدِ بْنِ الْوَلِيدِ، فَجَرَيْتُ بَيْنَ يَدَيْهِ أَسْأَلُ عَنْ رَحْلِ خَالِدٍ، حَتَّى أَتَاهُ جَرِيحًا. وَأُتِيَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِشَارِبٍ، فَقَالَ:"اضْرِبُوهُ"، فَضَرَبُوهُ بِالْأَيْدِي وَالنِّعَالِ وَأَطْرَافِ الثِّيَابِ وَحَثَوْا عَلَيْهِ مِنَ التُّرَابِ، ثُمَّ قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"بَكِّتُوهُ"، فَبَكَّتُوهُ، ثُمَّ أَرْسَلَهُ. قَالَ: فَلَمَّا كَانَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَسَأَلَ مَنْ حَضَرَ ذَلِكَ الْمَضْرُوبَ، فَقَوَّمَهُ أَرْبَعِينَ، فَضَرَبَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فِي الْخَمْرِ أَرْبَعِينَ حَيَاتَهُ، ثُمَّ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَرْبَعِينَ، حَتَّى تَتَابَعَ النَّاسُ فِي شُرْبِ الْخَمْرِ، فَاسْتَشَارَ فَضَرَبَهُ ثَمَانِينَ.
عبد الرحمن بن ازہر رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ میں نے حنین والے سال نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کے کوچ کے متعلق دریافت کر رہے ہیں، تو میں بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے آگے آگے خالد رضی اللہ عنہ کے کجاوے سے متعلق پوچھتا ہوا چل پڑا، یہاں تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان کے پاس پہنچے اور وہ زخمی حالت میں تھے۔ پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس ایک شرابی کو لایا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو مارو۔“ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے اسے ہاتھوں، جوتیوں، اور کپڑوں کے کناروں سے مارا اور اس پر مٹی پھینکی، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس کو ملامت کرو (برا بھلا کہو)۔“ تو صحابہ نے اسے ملامت کی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو چھوڑ دیا۔ عبد الرحمن بن ازہر نے کہا: پھر جب ابوبکر رضی اللہ عنہ کا دورِ خلافت آیا تو انہوں نے ان لوگوں سے پوچھا جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے عہد میں مارنے والوں میں شامل تھے، تو انہوں نے چالیس ضربوں کا بتایا، چنانچہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی زندگی میں شراب پینے پر چالیس کوڑے لگائے۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے بھی چالیس ہی رکھے یہاں تک کہ جب لوگ بکثرت شراب پینے لگے تو انہوں نے مشورہ سے اسی (80) کوڑے لگائے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 1562]
تخریج الحدیث: «صحيح من غير هذا الطريق: اخرجه ابو داود، الحدود، باب اذا تتابع في شرب الخمر (4487)، (4488)، (4489) واحمد: 4 / 88 والنسائي في الكبرى (5283)، (5281) - وصححه الحاكم: (4/ 374، 375).»
حدیث نمبر: 1563
أَخْبَرَنَا مَالِكٌ، عَنْ ثَوْرِ بْنِ زَيْدٍ الدِّيلِيِّ: أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اسْتَشَارَ فِي الْخَمْرِ يَشْرَبُهَا الرَّجُلُ، فَقَالَ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: نَرَى فِيهَا أَنْ يُجْلَدَ [ ص: 265 ] ثَمَانِينَ؛ فَإِنَّهُ إِذَا شَرِبَ سَكِرَ، وَإِذَا سَكِرَ هَذَى، وَإِذَا هَذَى افْتَرَى، أَوْ كَمَا قَالَ: فَجَلَدَهُ عُمَرُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ ثَمَانِينَ فِي الْخَمْرِ. أَخْرَجَ الْحَدِيثَيْنِ مِنْ كِتَابِ الْأَشْرِبَةِ.
ثور بن زید الدیلمی سے روایت ہے کہ عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے شراب پینے والے کے متعلق مشورہ طلب کیا تو علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”ہم سمجھتے ہیں کہ شرابی کو اسی (80) کوڑے لگائے جائیں، کیونکہ جب وہ شراب پیتا ہے تو اسے نشہ آتا ہے، اور جب نشہ آتا ہے تو وہ ہذیان بکتا ہے (بہکی بہکی باتیں کرتا ہے)، اور جب ہذیان بکتا ہے تو بہتان (افتراء) باندھتا ہے۔“ یا جس طرح انہوں نے فرمایا۔ پھر عمر رضی اللہ عنہ نے شراب پینے والے کو اسی (80) کوڑے لگائے۔ [مسند امام شافعی/كِتَابُ الحُدُودِ/حدیث: 1563]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعیف، فان ثورا لم يلق عمر اخرجه البيهقي: 320، 321 و في المعرفة السنن والآثار له (5246) - وعبدالرزاق (13542) والنسائي في الكبرى (5289) . ومالك في الموطا، الاشربة، باب ماجاء في حد الخمر.»