مسند امام شافعی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بَابُ لَا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَىٰ
کوئی بوجھ اٹھانے والی جان کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گی کا بیان۔
حدیث نمبر: 1620
أَخْبَرَنَا الشَّافِعِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَوْسٍ قَالَ: كَانَ الرَّجُلُ يُؤْخَذُ بِذَنْبِ غَيْرِهِ، حَتَّى جَاءَ إِبْرَاهِيمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ: وَإِبْرَاهِيمَ الَّذِي وَفَّى أَلا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِزْرَ أُخْرَى [النَّجْمِ: 37-38] .
عمرو بن اوس سے روایت ہے، فرمایا: پہلے ایک آدمی کو دوسرے کے گناہ کی وجہ سے پکڑ لیا جاتا تھا حتیٰ کہ ابراہیم علیہ السلام آئے تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اور وفدار ابراہیم کے صحیفوں میں تھا کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔“ (النجم: 37، 38) [مسند امام شافعی/كِتَابُ القَتْلِ وَالقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ وَالقَسَامَةِ/حدیث: 1620]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف لارساله اخرجه البيهقى 345/8 - وفى المعرفة السنن والآثار له (5299).»
حدیث نمبر: 1621
أَخْبَرَنَا ابْنُ عُيَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ بْنِ سَعِيدِ بْنِ أَبْجَرَ، عَنْ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، عَنْ أَبِي رِمْثَةَ، قَالَ: دَخَلْتُ مَعَ أَبِي عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى أَبِي الَّذِي بِظَهْرِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: دَعْنِي أُعَالِجُ الَّذِي بِظَهْرِكَ فَإِنِّي طَبِيبٌ، قَالَ:"أَنْتَ رَفِيقٌ"، وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:"مَنْ هَذَا مَعَكَ"؟ فَقَالَ: ابْنِي. قَالَ:"اشْهَدْ بِهِ"، قَالَ:"أَمَا إِنَّهُ لَا يَجْنِي عَلَيْكَ وَلَا تَجْنِي عَلَيْهِ". أَخْرَجَ الْأَوَّلَ مِنْ كِتَابِ أَحْكَامِ الْقُرْآنِ، وَالثَّانِيَ مِنْ كِتَابِ جِرَاحِ الْعَمْدِ.
ابو رمثہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، فرمایا: ”میں اپنے باپ کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں تشریف لے گیا، تو میرے باپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کمر پر کوئی چیز دیکھی اور فرمایا: ”مجھے اجازت دیں میں آپ کی کمر پر موجود چیز کا علاج کروں کیونکہ میں طبیب ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو اچھا ساتھی ہے۔“ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت کیا: ”یہ تیرے ساتھ کون ہے؟“ تو انہوں نے فرمایا: ”میرا بیٹا ہے، میں اس کی گواہی دیتا ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار! تیرے بیٹے کے قصور کا تجھ سے اور تیرے قصور کا تیرے بیٹے سے مواخذہ نہ ہو گا۔“ [مسند امام شافعی/كِتَابُ القَتْلِ وَالقِصَاصِ وَالدِّيَاتِ وَالقَسَامَةِ/حدیث: 1621]
تخریج الحدیث: «أخرجه ابوداود، الديات، باب لا يؤخذ الرجل بجريرة ابيه أو أخيه (4495) والنسائي، القسامة، هل يؤخذ احد بجريرة غيره (4836) وصححه ابن الجارود (770) والحاكم: 2/ 425 - وابن حبان.»