سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
63. باب فِي سُرْعَةِ السَّيْرِ وَالنَّهْىِ عَنِ التَّعْرِيسِ، فِي الطَّرِيقِ
باب: سفر میں تیز چلنے کا حکم اور راستہ میں پڑاؤ ڈالنے کی ممانعت کا بیان۔
حدیث نمبر: 2569
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، حَدَّثَنَا حَمَّادٌ، أَخْبَرَنَا سُهَيْلُ بْنُ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْخِصْبِ فَأَعْطُوا الْإِبِلَ حَقَّهَا، وَإِذَا سَافَرْتُمْ فِي الْجَدْبِ، فَأَسْرِعُوا السَّيْرَ فَإِذَا أَرَدْتُمُ التَّعْرِيسَ، فَتَنَكَّبُوا عَنِ الطَّرِيقِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سرسبز علاقوں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دو ۱؎ اور جب قحط والی زمین میں سفر کرو تو تیز چلو ۲؎، اور جب رات میں پڑاؤ ڈالنے کا ارادہ کرو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ ڈالو ۳؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2569]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم شاداب علاقوں میں سفر کرو تو اونٹوں کو ان کا حق دیا کرو (کہ وہ بھی کھا اور چر لیں) اور جب خشکی کے (دن یا علاقے ہوں) تو جلدی جلدی چلا کرو (تاکہ سواریوں کو اذیت نہ ہو) اور جب تم رات کو آرام کے لیے کہیں پڑاؤ کرو تو راستے سے ہٹ کر پڑاؤ کیا کرو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2569]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 12626)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 54 (1926)، سنن الترمذی/الأدب 75 (2858)، مسند احمد (2/337) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی انہیں کچھ دیر چرنے کے لئے چھوڑ دو۔
۲؎: تاکہ قحط والی زمین جلدی سے طے کر لو اور سواری کو تکان لاحق ہونے سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جاؤ۔
۳؎: کیونکہ رات میں راستوں پر زہریلے جانور چلتے ہیں۔
۲؎: تاکہ قحط والی زمین جلدی سے طے کر لو اور سواری کو تکان لاحق ہونے سے پہلے اپنی منزل پر پہنچ جاؤ۔
۳؎: کیونکہ رات میں راستوں پر زہریلے جانور چلتے ہیں۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1926)
حدیث نمبر: 2570
حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ هَذَا قَالَ، بَعْدَ قَوْلِهِ:" حَقَّهَا وَلَا تَعْدُوا الْمَنَازِلَ.
جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما نے بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسی ہی روایت کی ہے، مگر اس میں آپ کے قول «فأعطوا الإبل حقها» کے بعد اتنا اضافہ ہے کہ منزلوں کے آگے نہ بڑھو (تاکہ جانور کو تکلیف نہ ہو)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2570]
سیدنا جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے مذکورہ حدیث کے مثل بیان کرتے ہیں، اس روایت میں «حَقِّهَا» کے بعد یہ اضافہ ہے کہ ”(معروف) منازل (اور مسافت) سے تجاوز مت کیا کرو۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2570]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن ابن ماجہ/الأدب 47 (3772)، سنن النسائی/الیوم واللیلة (955) (تحفة الأشراف: 2219)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/305، 381) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3772)
ھشام بن حسان مدلس وعنعن وله طريق آخر عند ابن خزيمة (2548) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94
إسناده ضعيف
ابن ماجه (3772)
ھشام بن حسان مدلس وعنعن وله طريق آخر عند ابن خزيمة (2548) وسنده ضعيف
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 94