سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
65. باب رَبُّ الدَّابَّةِ أَحَقُّ بِصَدْرِهَا
باب: جانور کا مالک اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا زیادہ حقدار ہے۔
حدیث نمبر: 2572
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ ثَابِتٍ الْمَرْوَزِيُّ، حَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حُسَيْنٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ بُرَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي بُرَيْدَةَ يَقُولُ: بَيْنَمَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَمْشِي جَاءَ رَجُلٌ وَمَعَهُ حِمَارٌ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ ارْكَبْ وَتَأَخَّرَ الرَّجُلُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا أَنْتَ أَحَقُّ بِصَدْرِ دَابَّتِكَ مِنِّي إِلَّا أَنْ تَجْعَلَهُ لِي"، قَالَ: فَإِنِّي قَدْ جَعَلْتُهُ لَكَ فَرَكِبَ.
بریدہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم چل رہے تھے کہ اسی دوران ایک آدمی آیا اور اس کے ساتھ ایک گدھا تھا، اس نے کہا: اللہ کے رسول سوار ہو جائیے اور وہ پیچھے سرک گیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کا مجھ سے زیادہ حقدار ہو، الا یہ کہ تم مجھے اس اگلے حصہ کا حقدار بنا دو“، اس نے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو اس کا حقدار بنا دیا، پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس پر سوار ہوئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2572]
سیدنا بریدہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لیے جا رہے تھے کہ ایک شخص آیا اور اس کے پاس گدھا تھا، اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! (آیئے) سوار ہو جائیے“ اور وہ خود پیچھے کو ہو گیا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں، تم اپنی سواری پر آگے بیٹھنے کے زیادہ حقدار ہو، سوائے اس کے کہ تم اپنا یہ حق مجھے دے دو۔“ اس نے کہا: ”بیشک میں اپنا یہ حق آپ کو دیتا ہوں“، سو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سوار ہو گئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2572]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «سنن الترمذی/الأدب 25 (2773)، (تحفة الأشراف: 1961)، وقد أخرجہ: مسند احمد (5/353) (حسن صحیح)»
قال الشيخ الألباني: حسن صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
مشكوة المصابيح (3918)
أخرجه الترمذي (2773 وسنده حسن)
مشكوة المصابيح (3918)
أخرجه الترمذي (2773 وسنده حسن)