السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
93. (بَابُ التَّشْدِيدِ فِي تَرْكِ الْجَمَاعَةِ)
(ترک جماعت پر سخت وعید)
حدیث نمبر: 148
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ , عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنِ الأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ، لَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ آمُرَ بِحَطَبٍ فَيُحْطَبَ ثُمَّ آمُرَ بِالصَّلاةِ فَيُؤَذَّنَ لَهَا ثُمَّ آمُرَ رَجُلا فَيَؤُمَّ النَّاسَ ثُمَّ أُخَالِفَهُ إِلَى رِجَالٍ فَأُحَرِّقَ عَلَيْهِمْ بُيُوتَهُمْ وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَوْ يَعْلَمُ أَحَدُهُمُ أَنَّهُ يَجِدُ عَرْقًا سَمِينًا أَوْ مِرْمَاتَيْنِ حَسَنَتَيْنِ لَشَهِدَ الْعِشَاءَ". قَالَ الطَّحَاوِيُّ: الْمِرْمَاتَانِ هُمَا ظِلْفَا الشَّاةِ.
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”قسم اس ذات کی جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! میں نے مصمم ارادہ کیا کہ لکڑیاں اکٹھی کرنے کا حکم دوں پھر نماز کا حکم دوں اذان دی جائے پھر ایک بندے کو جماعت کرانے کا کہوں پھر خود ان لوگوں کی طرف جاؤں جو نماز سے غائب ہیں انہیں گھروں سمیت جلا ڈالوں، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اگر جماعت میں نہ شریک ہونے والے لوگ کو پتہ چلے کہ مسجد میں ایک اچھے گوشت والی ہڈی ملے گی یا دو عمدہ پائے مل جائیں گے تو عشاء میں ضرور پہنچ آئیں۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَنْ سَمِعَ النِّدَاءَ/حدیث: 148]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، الاذان، باب وجوب صلاة الجماعة، رقم: 644؛ صحیح مسلم، المساجد ومواضع الصلاة، باب فضل صلاة الجماعة، رقم: 651»