السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
151. (بَابُ خِيَارِ الْمَجْلِسِ فِي الْبَيْعِ)
(بیع میں خیارِ مجلس کا بیان)
حدیث نمبر: 233
أَنْبَأَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ دِينَارٍ، أَنَّهُ سَمِعَ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ، يَقُولُ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ:" الْبَيِّعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَفْتَرِقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ فَإِذَا كَانَ الْبَيْعُ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ".
سیدنا عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا بائع اور خریدار ہر دو کو جدا ہونے سے قبل بیع ختم کرنے کا اختیار ہے یا ان کی بیع میں خیار ہوا اگر ایسی بات ہے تو بیع پکی ہوگئی۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ فِي الْبُيُوعِ/حدیث: 233]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب اذا كان البائع بالخيار هل يجوز ...... الخ، رقم: 2113، صحیح مسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين، رقم: 1531»
حدیث نمبر: 234
عَنْ سُفْيَانَ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَمْلَى عَلَيَّ نَافِعٌ أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ عُمَرَ أَخْبَرَهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِذَا تَبَايَعَ الْمُتَبَايِعَانِ بِالْبَيْعِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مِنْ بَيْعِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا أَوْ يَكُونُ بَيْعُهُمَا عَنْ خِيَارٍ وَإِذَا كَانَ عَنْ خِيَارٍ فَقَدْ وَجَبَ". فَكَانَ ابْنُ عُمَرَ إِذَا بَاعَ الرَّجُلُ وَلَمْ يُخَيِّرْهُ فَأَرَادَ أَنْ لا يَقْبَلَهُ قَامَ فَمَشَى هُنَيْهَةً ثُمَّ رَجَعَ.
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب بیع کرنے والے آپس میں سودا کریں تو دونوں کو جدا ہونے تک بیع ختم کرنے کا اختیار ہے یا ان کی بیع میں خیار ختم کر دیا گیا ہو اگر ایسی بات ہے تو بیع پکی ہوگئی۔“ نافع رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ابن عمر رضی اللہ عنہما جب کسی سے سودا کرتے خیار نہ دیا ہوتا تو چاہتے کہ وہ اقالہ یعنی بیع کی واپسی کا مطالبہ نہ کرے۔ تو ابن عمر رضی اللہ عنہما تھوڑا سا چلتے پھر اس کے پاس واپس آجاتے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ فِي الْبُيُوعِ/حدیث: 234]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين، رقم: 1531»
حدیث نمبر: 235
عَنْ يَحْيَى بْنِ حَسَّانَ، عَنِ اللَّيْثِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّهُ قَالَ:" إِذَا ابْتَاعَ الرَّجُلانِ فَكُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلا بَيْعَ الْخِيَارِ وَكَانَا جَمِيعًا أَوْ يُخَيِّرُ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَإِنْ خَيَّرَ أَحَدُهُمَا الآخَرَ فَتَبَايَعَا عَلَى ذَلِكَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ وَإِنْ تَفَرَّقَا بَعْدَ أَنْ تَبَايَعَا وَلَمْ يَتْرُكْ وَاحِدٌ مِنْهُمَا الْبَيْعَ فَقَدْ وَجَبَ الْبَيْعُ".
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب دو آدمی خرید و فروخت کریں تو دونوں کو جدا ہونے تک بیع ختم کرنے کا اختیار ہے مگر بیع خیار (اختیار ختم کرتا ہے یا اختیار کی مدت مقرر کر دیتا ہے اس کا حکم جدائی سے متعلق نہ ہوگا) اور دونوں اکٹھے رہیں (الا یہ کہ) ان میں سے کوئی ایک دوسرے کو (بوقت بیع) اختیار دے دے اگر بیع کے وقت ہی ان دونوں نے ایک دوسرے کو اختیار دے دیا تو وہ اس پر سودا کر لیں تو بیع پکی ہوگئی اور اگر سودا کرنے کے بعد وہ ایک دوسرے سے جدا ہوئے اور اس وقت تک کسی نے بیع واپس نہیں کی تو بیع پکی ہوگئی (ناقابل واپسی ہے)“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ فِي الْبُيُوعِ/حدیث: 235]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب اذا خير احدهما صاحبه بعد البيع فقد وجب البيع، رقم: 2112، صحیح مسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين، رقم: 1531»
حدیث نمبر: 236
عَنْ مَالِكٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" الْمُتَبَايِعَانِ كُلُّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا بِالْخِيَارِ عَلَى صَاحِبِهِ مَا لَمْ يَتَفَرَّقَا إِلا بَيْعَ الْخِيَارِ".
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لین دین کرنے والے جدا ہونے سے قبل قبل بیع ختم کرنے کا اختیار رکھتے ہیں بیع خیار کے علاوہ۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ فِي الْبُيُوعِ/حدیث: 236]
تخریج الحدیث: «صحیح بخاری، البيوع، باب البيعان بالخيار ما لم يتفرقا، رقم: 2111، صحیح مسلم، البيوع، باب ثبوت خيار المجلس للمتبايعين، رقم: 1531»