سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
83. باب فِي كَرَاهِيَةِ السَّيْرِ فِي أَوَّلِ اللَّيْلِ
باب: شروع رات میں چلنا مکروہ ہے۔
حدیث نمبر: 2604
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي شُعَيْبٍ الْحَرَّانِيُّ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، حَدَّثَنَا أَبُو الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تُرْسِلُوا فَوَاشِيَكُمْ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ، فَإِنَّ الشَّيَاطِينَ تَعِيثُ إِذَا غَابَتِ الشَّمْسُ حَتَّى تَذْهَبَ فَحْمَةُ الْعِشَاءِ"، قَالَ أَبُو دَاوُد: الْفَوَاشِي مَا يَفْشُو مِنْ كُلِّ شَيْءٍ.
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب سورج ڈوب جائے تو اپنے جانوروں کو نہ چھوڑو یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے، کیونکہ شیاطین سورج ڈوبنے کے بعد فساد مچاتے ہیں یہاں تک کہ رات کی ابتدائی سیاہی چلی جائے“ ۱؎۔ ابوداؤد کہتے ہیں: «فواشی» ہر شیٔ کا وہ حصہ ہے جو پھیل جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2604]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج غروب ہوتے ہی اپنے چوپایوں کو مت چھوڑو، حتیٰ کہ رات کا اندھیرا خوب چھا جائے، بلاشبہ جس وقت سورج غروب ہوتا ہے شیاطین فساد کرتے ہیں، حتیٰ کہ رات کا اندھیرا چھا جائے۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ «الْفَوَاشِي» سے مراد ہر قسم کی گھومنے پھرنے والی چیزیں ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2604]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح مسلم/ الأشربة 12 (2013)، مسند احمد (3/301، 312، 362، 374، 386، 395)، (تحفة الأشراف: 2723) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: اس حدیث سے معلوم ہوا کہ پہلے پیدل یا جانوروں کی سورای والے سفر میں مغرب کے وقت ٹھہر جانا چاہئے، پھر اندھیرا ہونے پر چلنا چاہئے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (2013)