السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
232. (بَابُ النَّهْيِ عَنِ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ)
(عصر کے بعد نماز کی ممانعت)
حدیث نمبر: 382
وَأَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَجِيدِ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ مُصْعَبٍ، أَنَّ طَاوُسًا، أخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنِ الرَّكْعَتَيْنِ بَعْدَ الْعَصْرِ فَنَهَاهُ عَنْهُمَا، قَالَ: فَقُلْتُ: مَا أَدَعُهُمَا، فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ:" وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَلا مُؤْمِنَةٍ إِذَا قَضَى اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَمْرًا أَنْ يَكُونَ لَهُمُ الْخِيَرَةُ مِنْ أَمْرِهِمُ الآيَةَ".
امام طاوس رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ سے عصر کے بعد دو رکعت پڑھنے کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے منع کیا میں نے کہا کیا میں یہ چھوڑ دوں؟ تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: کسی مومن مرد اور نہ ہی کسی مومنہ عورت کے لیے یہ جائز ہے کہ جب اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ آجائے وہ اپنا اختیار استعمال کریں۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَا جَاءَ فِي صَدَقَةِ الْفِطْرِ/حدیث: 382]
تخریج الحدیث: «السنن الكبرى للبيهقي: 453/2، سنن دارمی، المقدمة، باب يتقى من تفسير حديث النبي رقم: 448، سنن نسائی، المواقيت باب النهي عن الصلاة بعد العصر، رقم: 569، عن ابن عباس مرفوعاً وقال الالباني: صحيح.»