السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
242. (بَابُ تِجَارَةِ الْيَتِيمِ وَحُكْمِ الْأَمِيرِ)
(یتیم کی تجارت اور حکمِ امیر)
حدیث نمبر: 392
وَسَمِعْتُ وَسَمِعْتُ الثَّقَفِيَّ، يَقُولُ: حَدَّثَنِي يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: ذَكَرْتُ لِلْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ بَيْعًا كُنَّا نَبِيعُهُ لِيَتِيمٍ كَانَ فِي حِجْرِي , كُنَّا نَبِيعُ مِنَ الرَّجُلِ الطَّعَامَ وَالزَّيْتَ إِلَى أَجْلٍ مُسَمًّى بِسِعْرٍ مَعْلُومٍ فَإِذَا فَرَغْنَا مِنْ بَيْعِهِ ذَهَبَ رَجُلٌ فَاشْتَرَى لَهُ الطَّعَامَ وَالْوَدَكَ فَوَفَّاهُ إِيَّاهُ فَقَالَ الْقَاسِمُ:" مَا كُنَّا نَرَى بِهَذَا بَأْسًا حَتَّى نَهَى عَنْهُ الأَمِيرُ فَإِذْ نَهَى عَنْهُ فَلا أُحِبُّهُ.
یحییٰ بن سعید رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے قاسم بن محمد رحمہ اللہ سے ایک بیع کا ذکر کیا جو ہم ایک یتیم کی خاطر کرتے تھے جو میری پرورش میں تھا، ہم کھانے اور تیل کا سودا مقررہ مدت اور معلوم قیمت پر کرتے سودا طے ہونے کے بعد وہ آدمی جاتا اور مطلوبہ طعام، تیل خرید لاتا تو جتنا طے ہوا ہوتا پورا پورا آ کر دے دیتا تو قاسم رحمہ اللہ نے کہا اس بیع میں ہمیں کوئی حرج نہیں لگتا تھا حتی کہ امیر مدینہ نے اس سے منع کر دیا تو جب امیر نے منع کیا ہے تو میں یہ بیع کرنا پسند نہیں کرتا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ أَيَّامِ التَّشْرِیقِ/حدیث: 392]
تخریج الحدیث: «هذا مقطوع و اسناده الى القاسم صحيح على شرط الشيخين.»