🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

93. باب فِي ابْنِ السَّبِيلِ يَأْكُلُ مِنَ التَّمْرِ وَيَشْرَبُ مِنَ اللَّبَنِ إِذَا مَرَّ بِهِ
باب: مسافر کھجور کے باغات یا دودھ والے جانوروں کے پاس سے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2619
حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ الرَّقَّامُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ الْحَسَنِ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" إِذَا أَتَى أَحَدُكُمْ عَلَى مَاشِيَةٍ فَإِنْ كَانَ فِيهَا صَاحِبُهَا فَلْيَسْتَأْذِنْهُ فَإِنْ أَذِنَ لَهُ فَلْيَحْلِبْ وَلْيَشْرَبْ فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا، فَلْيُصَوِّتْ ثَلَاثًا فَإِنْ أَجَابَهُ فَلْيَسْتَأْذِنْهُ وَإِلَّا فَلْيَحْتَلِبْ وَلْيَشْرَبْ وَلَا يَحْمِلْ".
سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی کسی جانور کے پاس سے گزرے اور اس کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دیدے تو دودھ دوہ کر پی لے اور اگر اس کا مالک موجود نہ ہو تو تین بار اسے آواز دے، اگر وہ آواز کا جواب دے تو اس سے اجازت لے، ورنہ دودھ دوہے اور پی لے، لیکن ساتھ نہ لے جائے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2619]
سیدنا سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی (دوران سفر میں) جانوروں کے پاس سے گزرے اور ان میں ان کا مالک موجود ہو تو اس سے اجازت لے، اگر وہ اجازت دے دے، تو دودھ دوہ لے اور پی لے، اگر مالک موجود نہ ہو تو تین بار آواز لگائے، اگر وہ جواب دے تو اس سے اجازت طلب کرے ورنہ دودھ نکال لے اور پی لے مگر ساتھ نہ لے جائے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2619]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/البیوع 60 (1296)، (تحفة الأشراف: 4591) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یہ حکم اس پریشان حال اور مضطر و مجبور مسافر کے لئے ہے جسے کھانا نہ ملنے کی صورت میں اپنی جان کے ہلاک ہونے کا خطرہ لاحق ہو۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
ترمذي (1296)
قتادة : عنعن
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 96

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2620
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الْعَنْبَرِيُّ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ شُرَحْبِيلَ، قَالَ: أَصَابَتْنِي سَنَةٌ فَدَخَلْتُ حَائِطًا مِنْ حِيطَانِ الْمَدِينَةِ، فَفَرَكْتُ سُنْبُلًا فَأَكَلْتُ، وَحَمَلْتُ فِي ثَوْبِي، فَجَاءَ صَاحِبُهُ فَضَرَبَنِي وَأَخَذَ ثَوْبِي فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ: مَا عَلَّمْتَ إِذْ كَانَ جَاهِلًا، وَلَا أَطْعَمْتَ إِذْ كَانَ جَائِعًا، أَوْ قَالَ: سَاغِبًا وَأَمَرَهُ فَرَدَّ عَلَيَّ ثَوْبِي وَأَعْطَانِي وَسْقًا أَوْ نِصْفَ وَسْقٍ مِنْ طَعَامٍ.
عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے قحط نے ستایا تو میں مدینہ کے باغات میں سے ایک باغ میں گیا اور کچھ بالیاں توڑیں، انہیں مل کر کھایا، اور (باقی) اپنے کپڑے میں باندھ لیا، اتنے میں اس کا مالک آ گیا، اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا چھین لیا، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا (اور آپ سے سارا ماجرا بتایا)، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مالک سے فرمایا: تم نے اسے بتایا نہیں جب کہ وہ جاہل تھا اور نہ کھلایا ہی جب کہ وہ بھوکا تھا، اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا اس نے میرا کپڑا واپس کر دیا اور ایک وسق (ساٹھ صاع) یا نصف وسق (تیس صاع) غلہ مجھے دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2620]
سیدنا عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ مجھے قحط (اور بھوک) نے ستایا، تو میں مدینہ کے ایک باغ میں چلا گیا اور وہاں سے میں نے ایک بالی لی، اسے مسلا اور کھا لیا اور کچھ اپنے کپڑے میں بھی باندھ لیے چلا، پس باغ کا مالک آ گیا تو اس نے مجھے مارا اور میرا کپڑا بھی چھین لیا۔ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: تو نے اسے سمجھایا نہیں جبکہ یہ نادان تھا اور نہ تو نے اس کو کھلایا جبکہ یہ بھوکا تھا۔ (لفظ «جَائِعًا» بولا یا «سَاغِبًا» معنی ایک ہی ہے) پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کو حکم دیا، تو اس نے میرا کپڑا واپس کر دیا اور مجھے ایک وسق یا آدھا وسق طعام بھی دیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2620]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/آداب القضاة 20 (5411)، سنن ابن ماجہ/التجارات 67 (2298)، (تحفة الأشراف: 5061)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/166) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
أخرجه ابن ماجه (2298 وسنده صحيح) ورواه النسائي (5411 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2621
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِي بِشْرٍ قَالَ: سَمِعْتُ عَبَّادَ بْنَ شُرَحْبِيلَ رَجُلًا مِنَّا مِنْ بَنِي غُبَرَ بِمَعْنَاهُ.
ابوبشر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں نے عباد بن شرحبیل سے جو ہمیں میں سے قبیلہ بنو غبر کے ایک فرد تھے اسی مفہوم کی حدیث سنی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2621]
ابوبشر رحمہ اللہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے عباد بن شرحبیل رضی اللہ عنہ سے سنا جو ہمارے قبیلہ بنی غبر میں سے تھے اور انہوں نے مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت کی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2621]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏انظر ما قبلہ، (تحفة الأشراف: 5061) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
أخرجه ابن ماجه (2298 وسنده صحيح) وانظر الحديث السابق (2620)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں