السنن المأثورة - الإمام الشافعي سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
377. (بَابُ النَّهْيِ عَنِ الذَّبْحِ قَبْلَ صَلَاةِ الْعِيدِ)
(نمازِ عید سے قبل قربانی کی ممانعت)
حدیث نمبر: 555
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ بُشَيْرِ بْنِ يَسَارٍ، أنَّ أَبَا بُرْدَةَ بْنَ نِيَارٍ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَذْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الأَضْحَى فَزَعَمُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ لِضَحِيَّةٍ أُخْرَى، قَالَ أَبُو بُرْدَةَ: لا أَجِدُ إِلا جَذَعًا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" فَإِنْ لَمْ تَجِدْ إِلا جَذَعًا فَاذْبَحْهُ".
بشیر بن یسار رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قربانی کرنے سے قبل ہی (یعنی نماز سے پہلے) عید الاضحی کے موقع پر قربانی کر دی تو لوگوں کا خیال ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ قربانی کا حکم دیا جس پر ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے عرض کی: میرے پاس تو ایک سال کا جانور ہی بچا ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اگر تجھے اور کوئی میسر نہ آئے تو ایک سال کا جانور ہی ذبح کر لے۔“ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ/حدیث: 555]
تخریج الحدیث: «سنن نسائی، الضحايا، باب ذبح الضحية قبل الامام، رقم: 4397 وقال الالباني: صحيح الاسناد؛ مسند احمد: 151/25، رقم: 15830 وقال الارنوؤط: حديث صحيح وهذا اسناد رجاله ثقات.»
حدیث نمبر: 556
أَنْبَأَنَا مَالِكٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ تَمِيمٍ، أَنَّ عُوَيْمِرَ بْنَ أَشْقَرَ ذَبَحَ أُضْحِيَّتَهُ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ يَوْمَ الأَضْحَى وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" فَأَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بِضَحِيَّةٍ أُخْرَى".
عباد بن تمیم رحمہ اللہ سے روایت ہے سیدنا عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ نے عید الاضحی ادا کرنے سے پہلے ہی قربانی کر دی جس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں دوبارہ قربانی کا حکم دیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ/حدیث: 556]
تخریج الحدیث: «انظر ما بعده، برقم: 557.»
حدیث نمبر: 557
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ يَحْيَى بْنَ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبَّادُ بْنُ تَمِيمٍ، عَنْ عُوَيْمِرِ بْنِ أَشْقَرَ، أَنَّهُ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يَغْدُوَ وَأَنَّهُ ذَكَرَ ذَلِكَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعْدَ أَنِ انْصَرَفَ" فَزَعَمَ أَنَّهُ أَمَرَهُ أَنْ يَعُودَ بِأُضْحِيَّةٍ".
سیدنا عباد بن تمیم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے سیدنا عویمر بن اشقر رضی اللہ عنہ نے نماز عید کے لیے نکلنے سے قبل ہی قربانی کر دی نماز کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دوبارہ قربانی کرنے کا حکم دیا۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ/حدیث: 557]
تخریج الحدیث: «سنن ابن ماجه، الاضاحي، باب النهي عن ذبح الاضحية قبل الصلاة، رقم: 3153، وقال الالباني: صحيح، مسند احمد: 41/25، رقم: 15762 وقال الارنوؤط: حديث صحيح لغيره.»
حدیث نمبر: 558
أَنْبَأَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَبْدِ الْمَجِيدِ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ أَبِي هِنْدَ، عَنْ عَامِرٍ الشَّعْبِيِّ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَامَ يَوْمَ النَّحْرِ خَطِيبًا فَحَمِدَ اللَّهَ وَأَثْنَى عَلَيْهِ، ثُمَّ قَالَ:" لا يَذْبَحَنَّ أَحَدُكُمْ حَتَّى يُصَلِّيَ"، قَالَ: فَقَامَ خَالِي، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هَذَا يَوْمٌ اللَّحْمُ فِيهِ مَقْرُومٌ، وَإِنِّي ذَبَحْتُ نَسِيكَتِي فَأَطْعَمْتُ أَهْلِي وَجِيرَانِي، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" قَدْ فَعَلْتَ فَأَعِدْ ذَبْحًا آخَرَ" فَقَالَ: عِنْدِي عَنَاقُ لَبَنٍ هِيَ خَيْرٌ مِنْ شَاتَيْ لَحْمٍ، فَقَالَ:" هِيَ خَيْرُ نَسِيكَتَيْكَ وَلَنْ تُجْزِئَ جَذَعَةٌ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ". قَالَ الشَّافِعِيُّ: قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ: أَظُنُّ أَنَّهَا مَاعِزٌ. قَالَ أَبُو جَعْفَرٍ: سَمِعْتُ الْمُزَنِيَّ يَقُولُ: قَالَ الشَّافِعِيُّ رَحِمَهُ اللَّهُ: وَالْعَنَاقُ هِيَ مَاعِزٌ كَمَا قَالَ عَبْدُ الْوَهَّابِ، إِنَّمَا يُقَالُ لِلضَّانِيَةِ: رِخْلٌ. وَقَوْلُهُ: هِيَ خَيْرٌ نَسِيكَتَيْكَ: أَنَّكَ ذَبَحْتَهُمَا تَنْوِي بِهِمَا نَسِيكَتَيْنِ فَلَمَّا قَدَّمْتَ الأُولَى قَبْلَ وَقْتِ الذَّبْحِ كَانَتِ الآخِرَةُ هِيَ النَّسِيكَةُ وَالأُولَى غَيْرَ نَسِيكَةٍ وَإِنْ نَوَيْتَ بِهَا النَّسِيكَةَ. وَقَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لا تُجْزِئُ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ" يَدُلُّ عَلَى أَنَّهَا لَهُ خَاصَّةً وَقَوْلُهُ: عَنَاقُ لَبَنٍ يَعْنِي عَنَاقًا تُقْتَنَى لِلَّبَنِ لا لِلذَّبْحِ.
سیدنا براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے قربانی والے دن خطبہ دیا اللہ تعالیٰ کی حمد و ثناء بیان کی پھر فرمایا: ”نماز ادا کرنے سے قبل ہرگز قربانی نہ کرنا۔“ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کہتے ہیں میرے ماموں کھڑے ہو گئے اور کہنے لگے اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! آج کے دن گوشت سے جی بھر جاتا ہے۔ میں تو اپنی قربانی کر آیا ہوں جس سے میں نے گھر والوں کو اور پڑوسیوں کو کھلایا ہے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو نے ایسا کر لیا ہے تو اس کی جگہ دوسری قربانی کرو۔“ ماموں کہنے لگے میرے پاس ایک سالہ دودھ پیتی (کھیری) بکری ہے وہ گوشت والی دو بکریوں سے بہتر ہے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تمہاری بہترین قربانی ہے (اس کی قربانی کرلو) لیکن تمہارے بعد کسی کو ایک سالہ جانور قربانی کرنا کافی نہیں ہوگا۔“ راوی عبدالوہاب کہتے ہیں کہ میرا خیال ہے کہ وہ بکری کا بچہ تھا۔ امام شافعی رحمہ اللہ کا کہنا ہے کہ عناق کا معنی بکری کی بچی ہے جیسا کہ راوی عبدالوہاب نے کہا، ”ضائیہ کو درخل“ کہا جاتا ہے دو بکریوں سے بہتر کا معنی یہ ہے کہ انہوں نے دو بکریاں ذبح کی ایک نماز سے پہلے جو قربانی شمار نہ ہوئی جبکہ دوسری نماز کے بعد ذبح کی تو دونوں میں سے بہتر بعد والی ہوئی کیونکہ وہ قربانی شمار ہوئی ہے، تیرے بعد کسی کو کفایت نہ کرے گی کا مطلب ہے یہ اُن کے ساتھ خاص تھی اور دودھ والی بکری سے مراد ہے کہ وہ بکری دودھ کے مقصد کے لیے رکھی تھی نہ کہ ذبح کرنے کے لیے۔ [السنن المأثورة - الإمام الشافعي/بَابُ مَنْ أَعْتَقَ شِرْكًا لَهُ فِي عَبْدٍ/حدیث: 558]
تخریج الحدیث: «صحیح مسلم، الأضاحي، باب وقتها، رقم: 1961.»