سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
137. باب فِي إِبَاحَةِ الطَّعَامِ فِي أَرْضِ الْعَدُوِّ
باب: دشمن کے ملک میں (غنیمت میں) غلہ یا کھانے کی چیز آئے تو کھانا جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2701
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ حَمْزَةَ الزُّبَيْرِيُّ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ عِيَاضٍ عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنَّ جَيْشًا غَنِمُوا فِي زَمَانِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ طَعَامًا وَعَسَلًا فَلَمْ يُؤْخَذْ مِنْهُمُ الْخُمُسُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک لشکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں (دوران جنگ) غلہ اور شہد غنیمت میں لایا تو اس میں سے خمس نہیں لیا گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2701]
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں ایک لشکر کو غلہ اور شہد بطور غنیمت ملا، تو اس میں سے خمس نہیں لیا گیا تھا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2701]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 7811)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/فرض الخمس 20 (3154) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (4021)
رواه البخاري (3154)
مشكوة المصابيح (4021)
رواه البخاري (3154)
حدیث نمبر: 2702
حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيل، وَالْقَعْنَبِيُّ، قَالَا: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ، عَنْ حُمَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ هِلَالٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُغَفَّلٍ قَالَ: دُلِّيَ جِرَابٌ مِنْ شَحْمٍ يَوْمَ خَيْبَرَ قَالَ: فَأَتَيْتُهُ فَالْتَزَمْتُهُ قَالَ: ثُمَّ قُلْتُ: لَا أُعْطِي مِنْ هَذَا أَحَدًا الْيَوْمَ شَيْئًا قَالَ: فَالْتَفَتُّ فَإِذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَبَسَّمُ إِلَيَّ.
عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ خیبر کے دن چربی کا ایک مشک لٹکایا گیا تو میں آیا اور اس سے چمٹ گیا، پھر میں نے کہا: آج میں اس میں سے کسی کو بھی کچھ نہیں دوں گا، پھر میں مڑا تو کیا دیکھتا ہوں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری اس حرکت پر کھڑے مسکرا رہے ہیں۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2702]
سیدنا عبداللہ بن مغفل رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ خیبر کے روز چربی سے بھرا ایک تھیلا اوپر سے لڑھکایا گیا۔ میں نے آگے بڑھ کر اسے جھپٹ لیا، پھر میں نے کہا: ”آج میں اس میں سے کسی کو کچھ نہیں دوں گا۔“ میں نے گردن موڑی تو دیکھا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میری جانب (دیکھ کر) مسکرا رہے تھے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2702]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الخمس 20 (3153)، والمغازي 38 (4214)، والصید 22 (5508)، صحیح مسلم/الجھاد 25 (1772)، سنن النسائی/الضحایا 37 (4440)، (تحفة الأشراف: 9656)، وقد أخرجہ: مسند احمد (4/86، 5/55، 56)، سنن الدارمی/السیر 57 (2542) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3153) صحيح مسلم (1772)