صحيح البخاري سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. بَابُ إِيقَاظِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَهْلَهُ بِالْوِتْرِ:
باب: وتر کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا گھر والوں کو جگانا۔
حدیث نمبر: 997
حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامٌ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ:" كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي وَأَنَا رَاقِدَةٌ مُعْتَرِضَةً عَلَى فِرَاشِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يُوتِرَ أَيْقَظَنِي فَأَوْتَرْتُ".
ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے ہشام بن عروہ نے بیان کیا، کہا کہ مجھ سے میرے باپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا سے بیان کیا کہ آپ نے فرمایا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم (تہجد کی) نماز پڑھتے رہتے اور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے بستر پر عرض میں لیٹی رہتی۔ جب وتر پڑھنے لگتے تو مجھے بھی جگا دیتے اور میں بھی وتر پڑھ لیتی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوِتْرِ/حدیث: 997]
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا: نبی صلی اللہ علیہ وسلم تہجد کی نماز پڑھتے رہتے جبکہ میں آپ کے بستر پر لیٹی سوئی ہوتی، جب آپ وتر پڑھنے کا ارادہ کرتے تو مجھے بیدار کر دیتے تو میں وتر پڑھ لیتی۔ [صحيح البخاري/كِتَاب الْوِتْرِ/حدیث: 997]
تخریج الحدیث: «أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة»
الحكم على الحديث: أحاديث صحيح البخاريّ كلّها صحيحة