سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
142. باب فِي الرُّخْصَةِ فِي السِّلاَحِ يُقَاتَلُ بِهِ فِي الْمَعْرَكَةِ
باب: لڑائی میں غنیمت کے ہتھیار کا استعمال جائز ہے۔
حدیث نمبر: 2709
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ يَعْنِي ابْنَ يُوسُفَ بْنِ إِسْحَاق بْنِ أَبِي إِسْحَاق السُّبَيْعِيُّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاق السُّبَيْعِيِّ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو عُبَيْدَةَ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: مَرَرْتُ فَإِذَا أَبُو جَهْلٍ صَرِيعٌ قَدْ ضُرِبَتْ رِجْلُهُ فَقُلْتُ: يَا عَدُوَّ اللَّهِ يَا أَبَا جَهْلٍ قَدْ أَخْزَى اللَّهُ الْأَخِرَ قَالَ: وَلَا أَهَابُهُ عِنْدَ ذَلِكَ فَقَالَ: أَبْعَدُ مِنْ رَجُلٍ قَتَلَهُ قَوْمُهُ فَضَرَبْتُهُ بِسَيْفٍ غَيْرِ طَائِلٍ فَلَمْ يُغْنِ شَيْئًا حَتَّى سَقَطَ سَيْفُهُ مِنْ يَدِهِ فَضَرَبْتُهُ بِهِ حَتَّى بَرَدَ.
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میں (غزوہ بدر میں) گزرا تو ابوجہل کو پڑا ہوا دیکھا، اس کا پاؤں زخمی تھا، میں نے کہا: اللہ کے دشمن! ابوجہل! آخر اللہ نے اس شخص کو جو اس کی رحمت سے دور تھا ذلیل کر ہی دیا، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ اس وقت میں اس سے ڈر نہیں رہا تھا، اس پر اس نے کہا: اس سے زیادہ تو کوئی بات نہیں ہوئی ہے کہ ایک شخص کو اس کی قوم نے مار ڈالا اور یہ کوئی عار کی بات نہیں، پھر میں نے اسے کند تلوار سے مارا لیکن وار کارگر نہ ہوا یہاں تک کہ اس کی تلوار اس کے ہاتھ سے گر پڑی، تو اسی کی تلوار سے میں نے اس کو (دوبارہ) مارا یہاں تک کہ وہ ٹھنڈا ہو گیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2709]
سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ اپنے والد (سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) سے روایت کرتے ہیں کہ (غزوہ بدر میں) ”میں ابوجہل کے پاس سے گزرا، وہ گرا پڑا تھا اور اس کی ٹانگ پر ضرب لگی تھی۔ میں نے اس سے کہا: ”اے اللہ کے دشمن! اے ابوجہل! (بالآخر) اللہ نے (تجھ) کمینے کو ذلیل کر ہی دیا“ (سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ) کہتے ہیں کہ مجھے اس وقت اس سے کوئی خوف نہ تھا۔ تو اس نے کہا: ”تعجب (اور حسرت) ہے اس آدمی پر کہ اس کی اپنی ہی قوم نے اسے قتل کر دیا“ تو میں نے اس کو اپنی تلوار سے مارا جو کند سی تھی اور اس نے کوئی فائدہ نہ دیا (اسے قتل نہ کر سکی) لیکن اس کے ہاتھ سے اس کی تلوار گر گئی، تب میں نے اس سے اس کو مارا حتیٰ کہ ٹھنڈا ہو گیا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2709]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 9619)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ السیر (8670)، مسند احمد (1/403، 406، 422، 444) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:ضعيف
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (8670)
أبو إسحاق السبيعي عنعن وأبو عبيدة عن أبيه : منقطع
وحديث البخاري (39613963) ومسلم (1800) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 98
إسناده ضعيف
نسائي في الكبريٰ (8670)
أبو إسحاق السبيعي عنعن وأبو عبيدة عن أبيه : منقطع
وحديث البخاري (39613963) ومسلم (1800) يغني عنه
انوار الصحيفه، صفحه نمبر 98