سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
163. باب فِي الإِمَامِ يُسْتَجَنُّ بِهِ فِي الْعُهُودِ
باب: عہد و پیمان میں امام رعایا کے لیے ڈھال ہے اس لیے امام جو عہد کرے اس کی پابندی لوگوں پر ضروری ہے۔
حدیث نمبر: 2757
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الصَّبَّاحِ الْبَزَّازُ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنَّمَا الْإِمَامُ جُنَّةٌ يُقَاتَلُ بِهِ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام بحیثیت ڈھال کے ہے اسی کی رائے سے لڑائی کی جاتی ہے (تو اسی کی رائے پر صلح بھی ہو گی)“ ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2757]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”امام ڈھال ہے کہ اس کے ساتھ قتال کیا جاتا ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2757]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13788)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الجھاد 109 (2957)، صحیح مسلم/الإمارة 9 (1841)، سنن النسائی/البیعة 30 (4201) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: امام اور امیر کی قیادت میں عام شہری اس کے حکم اور اس کی رائے اور اس کی طرف سے دشمن سے کیے گئے معاہدوں کے مطابق زندگی گزارتے ہیں، ایسی صورت میں امام رعایا کے لیے ڈھال ہوتا ہے، جس کے ذریعے سے لوگ نقصانات سے محفوظ رہتے ہیں، جیسے ڈھال کے ذریعے آدمی دشمن کے وارسے محفوظ رہتا ہے،امام اور دشمن کے درمیان جو بات صلح اور اتفاق سے طے ہو جاتی ہے، اس کے مطابق دونوں فریق اپنے مسائل حل کرتے ہیں، تو امام کے معاہدہ کے نتیجے میں لوگ دشمن کی ایذا سے محفوظ رہتے ہیں، اس لیے امام اور حاکم کی حیثیت امن اور جنگ میں ڈھال کی ہے، جس سے رعایا فوائد حاصل کرتی ہے، اور دشمن کے شر سے محفوظ رہتی ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن
رواه البخاري (2957) ومسلم (1841)
رواه البخاري (2957) ومسلم (1841)
حدیث نمبر: 2758
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرٌو، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الأَشَجِّ، عَنْ الْحَسَنِ بْنِ عَلِيِّ بْنِ أَبِي رَافِعٍ، أَنَّ أَبَا رَافِعٍ أَخْبَرَهُ، قَالَ: بَعَثَتْنِي قُرَيْشٌ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُلْقِيَ فِي قَلْبِي الْإِسْلَامُ فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنِّي وَاللَّهِ لَا أَرْجِعُ إِلَيْهِمْ أَبَدًا فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنِّي لَا أَخِيسُ بِالْعَهْدِ وَلَا أَحْبِسُ الْبُرُدَ، وَلَكِنْ ارْجِعْ فَإِنْ كَانَ فِي نَفْسِكَ الَّذِي فِي نَفْسِكَ الْآنَ فَارْجِعْ"، قَالَ: فَذَهَبْتُ ثُمَّ أَتَيْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَسْلَمْتُ، قَالَ بُكَيْرٌ: وَأَخْبَرَنِي أَنَّ أَبَا رَافِعٍ كَانَ قِبْطِيًّا، قَالَ أَبُو دَاوُد: هَذَا كَانَ فِي ذَلِكَ الزَّمَانِ فَأَمَّا الْيَوْمَ فَلَا يَصْلُحُ.
ابورافع رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ قریش نے مجھے (صلح حدیبیہ میں) رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بھیجا، جب میں نے آپ کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی محبت پیدا ہو گئی، میں نے کہا: اللہ کے رسول! اللہ کی قسم! میں ان کی طرف کبھی لوٹ کر نہیں جاؤں گا، تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نہ تو بدعہدی کرتا ہوں اور نہ ہی قاصدوں کو گرفتار کرتا ہوں، تم واپس جاؤ، اگر تمہارے دل میں وہی چیز رہی جو اب ہے تو آ جانا“، ابورافع کہتے ہیں: میں قریش کے پاس لوٹ آیا، پھر دوبارہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسلمان ہو گیا۔ بکیر کہتے ہیں: مجھے حسن بن علی نے خبر دی ہے کہ ابورافع قبطی غلام تھے۔ ابوداؤد کہتے ہیں: یہ اس زمانہ میں تھا اب یہ مناسب نہیں ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2758]
سیدنا ابورافع رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ (صلح حدیبیہ کے موقع پر) قریشیوں نے مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف روانہ کیا۔ جب میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا تو میرے دل میں اسلام کی رغبت ڈال دی گئی، پس میں نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں تو اللہ کی قسم کبھی بھی اب ان کی طرف نہیں جاؤں گا۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں عہد کو نہیں توڑتا اور نہ قاصدوں کو قید کرتا ہوں، تمہیں چاہیے کہ واپس جاؤ، اگر تمہارے دل میں وہی بات رہے جو اب ہے تو واپس آ جانا۔“ کہتے ہیں: ”میں واپس گیا، پھر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لوٹ آیا اور اسلام قبول کر لیا۔“ بکیر کہتے ہیں: ”مجھے (حسن بن علی نے) بتایا کہ (اس کا دادا) ابورافع رضی اللہ عنہ قبطی غلام تھا۔“ امام ابوداؤد رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ”یہ اس زمانے میں تھا (کہ قاصد مسلمان ہونا چاہ رہا تھا تو اسے واپس کر دیا) آج درست نہیں ہے۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2758]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 12013)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ السیر (8674) (صحیح)»
وضاحت: ۱؎: یعنی اسلام لے آنے والے قاصد کو کفار کی طرف لوٹا دینا اسی مدت کے اندر اور خاص آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے تھا، اب ایسا کرنا اسلامی کاز کے لئے بہتر نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3981)
مشكوة المصابيح (3981)