🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

169. باب فِي الْعَدُوِّ يُؤْتَى عَلَى غِرَّةٍ وَيُتَشَبَّهُ بِهِمْ
باب: دشمن کے پاس دھوکہ سے پہنچنا اور یہ ظاہر کرنا کہ وہ انہی میں سے ہے اور اسے قتل کرنا جائز ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2768
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنْ جَابِرٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" مَنْ لِكَعْبِ بْنِ الْأَشْرَفِ فَإِنَّهُ قَدْ آذَى اللَّهَ وَرَسُولَهُ، فَقَامَ مُحَمَّدُ بْنُ مَسْلَمَةَ فَقَالَ: أَنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَتُحِبُّ أَنْ أَقْتُلَهُ قَالَ: نَعَمْ قَالَ: فَأْذَنْ لِي أَنْ أَقُولَ شَيْئًا قَالَ: نَعَمْ قُلْ، فَأَتَاهُ فَقَالَ: إِنَّ هَذَا الرَّجُلَ قَدْ سَأَلَنَا الصَّدَقَةَ وَقَدْ عَنَّانَا قَالَ: وَأَيْضًا لَتَمَلُّنَّهُ قَالَ: اتَّبَعْنَاهُ فَنَحْنُ نَكْرَهُ أَنْ نَدَعَهُ حَتَّى نَنْظُرَ إِلَى أَيِّ شَيْءٍ يَصِيرُ أَمْرُهُ، وَقَدْ أَرَدْنَا أَنْ تُسْلِفَنَا وَسْقًا أَوْ وَسْقَيْنِ قَالَ كَعْبٌ: أَيَّ شَيْءٍ تَرْهَنُونِي؟ قَالَ: وَمَا تُرِيدُ مِنَّا؟ قَالَ: نِسَاءَكُمْ، قَالُوا: سُبْحَانَ اللَّهِ أَنْتَ أَجْمَلُ الْعَرَبِ! نَرْهَنُكَ نِسَاءَنَا فَيَكُونُ ذَلِكَ عَارًا عَلَيْنَا قَالَ: فَتَرْهَنُونِي أَوْلَادَكُمْ، قَالُوا: سُبْحَانَ اللَّهِ يُسَبُّ ابْنُ أَحَدِنَا فَيُقَالُ رُهِنْتَ بِوَسْقٍ أَوْ وَسْقَيْنِ قَالُوا: نَرْهَنُكَ اللَّأْمَةَ يُرِيدُ السِّلَاحَ قَالَ: نَعَمْ فَلَمَّا أَتَاهُ نَادَاهُ، فَخَرَجَ إِلَيْهِ وَهُوَ مُتَطَيِّبٌ يَنْضَحُ رَأْسُهُ، فَلَمَّا أَنْ جَلَسَ إِلَيْهِ وَقَدْ كَانَ جَاءَ مَعَهُ بِنَفَرٍ ثَلَاثَةٍ أَوْ أَرْبَعَةٍ فَذَكَرُوا لَهُ، قَالَ: عِنْدِي فُلَانَةُ وَهِيَ أَعْطَرُ نِسَاءِ النَّاسِ قَالَ: تَأْذَنُ لِي فَأَشُمَّ قَالَ: نَعَمْ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي رَأْسِهِ فَشَمَّهُ قَالَ: أَعُودُ؟ قَالَ: نَعَمْ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي رَأْسِهِ فَلَمَّا اسْتَمْكَنَ مِنْهُ قَالَ: دُونَكُمْ فَضَرَبُوهُ حَتَّى قَتَلُوهُ".
جابر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو کعب بن اشرف ۱؎ کے قتل کا بیڑا اٹھائے؟ کیونکہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو تکلیف پہنچائی ہے“، یہ سن کر محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے اور بولے: اللہ کے رسول! میں، کیا آپ چاہتے ہیں کہ میں اس کو قتل کر دوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں“، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: پھر آپ مجھے اجازت دیجئیے کہ میں کچھ کہہ سکوں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں، کہہ سکتے ہو“، پھر انہوں نے کعب کے پاس آ کر کہا: اس شخص (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم ) نے ہم سے صدقے مانگ مانگ کر ہماری ناک میں دم کر رکھا ہے، کعب نے کہا: ابھی کیا ہے؟ تم اور اکتا جاؤ گے، اس پر انہوں نے کہا: ہم اس کی پیروی کر چکے ہیں اب یہ بھی اچھا نہیں لگتا کہ اس کا ساتھ چھوڑ دیں جب تک کہ اس کا انجام نہ دیکھ لیں کہ کیا ہوتا ہے؟ ہم تم سے یہ چاہتے ہیں کہ ایک وسق یا دو وسق اناج ہمیں بطور قرض دے دو، کعب نے کہا: تم اس کے عوض رہن میں میرے پاس کیا رکھو گے؟ محمد بن مسلمہ نے کہا: تم کیا چاہتے ہو؟ کعب نے کہا: اپنی عورتوں کو رہن رکھ دو، انہوں نے کہا: ”سبحان الله!“ تم عربوں میں خوبصورت ترین آدمی ہو، اگر ہم اپنی عورتوں کو تمہارے پاس گروی رکھ دیں تو یہ ہمارے لیے عار کا سبب ہو گا، اس نے کہا: اپنی اولاد کو رکھ دو، انہوں نے کہا: ”سبحان الله!“ جب ہمارا بیٹا بڑا ہو گا تو لوگ اس کو طعنہ دیں گے کہ تو ایک وسق یا دو وسق کے بدلے گروی رکھ دیا گیا تھا، البتہ ہم اپنا ہتھیار تمہارے پاس گروی رکھ دیں گے، کعب نے کہا ٹھیک ہے۔ پھر جب محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کعب کے پاس گئے اور اس کو آواز دی تو وہ خوشبو لگائے ہوئے نکلا، اس کا سر مہک رہا تھا، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ ابھی بیٹھے ہی تھے کہ ان کے ساتھ تین چار آدمی جو اور تھے سبھوں نے اس کی خوشبو کا ذکر شروع کر دیا، کعب کہنے لگا کہ میرے پاس فلاں عورت ہے جو سب سے زیادہ معطر رہتی ہے، محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: کیا تم اجازت دیتے ہو کہ میں (تمہارے بال) سونگھوں؟ اس نے کہا: ہاں، تو محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اپنا ہاتھ اس کے سر میں ڈال کر سونگھا، پھر دوبارہ اجازت چاہی اس نے کہا: ہاں، پھر انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر پر رکھا، پھر جب اسے مضبوطی سے پکڑ لیا تو (اپنے ساتھیوں سے) کہا: پکڑو اسے، پھر ان لوگوں نے اس پر وار کیا یہاں تک کہ اسے مار ڈالا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2768]
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کون ہے جو کعب بن اشرف کی خبر لے؟ بلاشبہ اس نے اللہ اور اس کے رسول کو اذیت دی ہے۔“ پس محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہوئے اور کہا: ”اے اللہ کے رسول! میں حاضر ہوں۔ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم چاہتے ہیں کہ میں اسے قتل کر ڈالوں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ انہوں نے کہا: ”مجھے اجازت دیجیے کہ میں اس کے سامنے کوئی بات بنا سکوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں! تم کہہ سکتے ہو۔“ چنانچہ محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اس کے پاس گئے اور کہا: ”اس آدمی نے ہم سے صدقات طلب کیے ہیں اور ہمیں بہت تنگ کر رکھا ہے۔“ اس نے کہا: ”ابھی تم اس شخص سے اور بھی اکتا جاؤ گے۔“ ابن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”چونکہ ہم اس کی پیروی اختیار کر چکے ہیں اس لیے فوراً اسے چھوڑ دینا مناسب نہیں ہے، حتیٰ کہ دیکھ لیں کہ اس کا انجام کیا ہوتا ہے۔ ہم چاہتے ہیں کہ تم ہمیں ایک دو وسق (غلہ وغیرہ) دے دو۔“ کعب نے کہا: ”بطور رہن کیا چیز دو گے؟“ انہوں نے کہا: ”تم ہم سے کیا چاہتے ہو؟“ اس نے کہا: ”اپنی عورتیں دے دو۔“ انہوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ! تم عرب کے حسین ترین شخص ہو، ہم تمہیں اپنی عورتیں بطور رہن دے دیں، تو یہ ہمارے لیے بہت بڑی عار ہوگی۔“ وہ بولا: ”چلو اپنی اولادیں دے دو۔“ انہوں نے کہا: «سُبْحَانَ اللّٰهِ» ”سبحان اللہ! (ساری زندگی) ہمارے بچے کو یہ گالی دی جاتی رہے گی کہ تمہیں تو ایک یا دو وسق کے بدلے میں رہن رکھا گیا تھا۔“ انہوں نے کہا: ”ہاں ہم اپنا اسلحہ بطور رہن دے سکتے ہیں۔“ تو وہ بولا: ”ہاں ٹھیک ہے۔“ چنانچہ وہ لوگ جب اس کے پاس آئے تو ابن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے اس کو آواز دی، وہ باہر آیا، اس نے خوشبو لگا رکھی تھی اور اس کا سر خوشبو سے مہک رہا تھا۔ پس جب وہ اس کے پاس بیٹھ گیا اور محمد بن مسلمہ رضی اللہ عنہ اپنے ساتھ تین یا چار ساتھیوں کو بھی لائے تھے، سب نے اس سے خوشبو کا تذکرہ کیا۔ وہ کہنے لگا: ”میرے ہاں فلاں عورت ہے جو بہترین خوشبو والی عورت ہے۔“ ابن مسلمہ رضی اللہ عنہ نے کہا: ”اگر اجازت دو تو میں سونگھ لوں؟“ اس نے کہا: ”ہاں ہاں۔“ پس انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر میں کیا اور اسے سونگھا۔ انہوں نے کہا: ”ذرا ایک بار پھر۔“ اس نے کہا: ”ہاں ہاں۔“ تو انہوں نے اپنا ہاتھ اس کے سر میں ڈالا اور اس کے بالوں کو خوب جکڑ لیا اور اپنے ساتھیوں سے کہا: ”لو اپنا کام کرو۔“ تو انہوں نے اس کو مارا حتیٰ کہ قتل کر ڈالا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2768]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الرھن 3 (2510)، والجھاد 158 (3031)، والمغازي 15 (4037)، صحیح مسلم/الجھاد 42 (1801)، (تحفة الأشراف: 2524)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/ الکبری/ (8641) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: کعب بن اشرف یہودیوں کا سردار تھا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہجو کرتا تھا، دوسروں کو بھی اس پر ابھارتا تھا اس کے ساتھ ساتھ عہد شکنی کا مجرم بھی تھا اسی لئے آپ نے اس کے قتل کا حکم دیا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (3031) صحيح مسلم (1801)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2769
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ حُزَابَةَ، حَدَّثَنَا إِسْحَاق يَعْنِي ابْنَ مَنْصُورٍ، حَدَّثَنَا أَسْبَاطٌ الْهَمْدَانِيُّ، عَنْ السُّدِّيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ:" الْإِيمَانُ قَيَّدَ الْفَتْكَ لَا يَفْتِكُ مُؤْمِنٌ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان نے کسی کو دھوکہ سے قتل کرنے کو روک دیا، کوئی مومن دھوکہ سے قتل نہیں کرتا ۱؎“۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2769]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایمان نے دھوکے سے قتل کرنے کو بند کر دیا ہے، کوئی صاحب ایمان دھوکے سے قتل نہیں کر سکتا۔“ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجِهَادِ/حدیث: 2769]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 13615)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الحج 76 (3278) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: معلوم ہوا کہ غفلت میں پڑے ہوئے شخص کو قتل کرنا درست نہیں اسی لئے کہا جاتا ہے کہ کعب بن اشرف کے قتل کا واقعہ اس حدیث میں فتک (غفلت میں قتل) کی ممانعت سے قبل کا ہے یا کعب کا قتل اس کی عہد شکنی اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی مسلسل ہجو کرنے اور اس پر دوسروں کو ابھارنے کی وجہ سے تھا۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:حسن
مشكوة المصابيح (3548)
صححه الحاكم علٰي شرط مسلم (4/352 وسنده حسن) ووافقه الذھبي وللحديث شواھد

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں