🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

2. باب فِي الصَّيْدِ
باب: شکار کرنے کا بیان۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2857
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ الضَّرِيرُ، حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، حَدَّثَنَا حَبِيبٌ الْمُعَلِّمُ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، أَنَّ أَعْرَابِيًّا يُقَالُ لَهُ أَبُو ثَعْلَبَةَ، قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّ لِي كِلَابًا مُكَلَّبَةً فَأَفْتِنِي فِي صَيْدِهَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" إِنْ كَانَ لَكَ كِلَابٌ مُكَلَّبَةٌ فَكُلْ مِمَّا أَمْسَكْنَ عَلَيْكَ، قَالَ: ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: فَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، قَالَ: وَإِنْ أَكَلَ مِنْهُ، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ أَفْتِنِي فِي قَوْسِي، قَالَ: كُلْ مَا رَدَّتْ عَلَيْكَ قَوْسُكَ، قَالَ: ذَكِيًّا أَوْ غَيْرَ ذَكِيٍّ، قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنِّي، قَالَ: وَإِنْ تَغَيَّبَ عَنْكَ مَا لَمْ يَصِلَّ أَوْ تَجِدَ فِيهِ أَثَرًا غَيْرَ سَهْمِكَ، قَالَ: أَفْتِنِي فِي آنِيَةِ الْمَجُوسِ إِنِ اضْطُرِرْنَا إِلَيْهَا، قَالَ: اغْسِلْهَا وَكُلْ فِيهَا".
عبداللہ بن عمرو بن العاص رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ابوثعلبہ رضی اللہ عنہ نامی ایک دیہاتی نے کہا: اللہ کے رسول! میرے پاس شکار کے لیے تیار سدھائے ہوئے کتے ہیں، ان کے شکار کے سلسلہ میں مجھے بتائیے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تمہارے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں تو جو شکار وہ تمہارے لیے پکڑ رکھیں انہیں کھاؤ۔ ابو ثعلبہ نے کہا: خواہ میں ان کو ذبح کر سکوں یا نہ کر سکوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں۔ ابو ثعلبہ نے کہا: اگرچہ وہ کتے اس جانور میں سے کھا لیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ وہ اس جانور میں سے کھا لیں۔ پھر انہوں نے کہا: اللہ کے رسول! میرے تیر کمان سے شکار کے متعلق بتائیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارا تیر کمان جو تمہیں لوٹا دے اسے کھاؤ، خواہ تم اسے ذبح کر پاؤ یا نہ کر پاؤ۔ انہوں نے کہا: اگرچہ وہ شکار تیر کھا کر میری نظروں سے اوجھل ہو جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں اگرچہ وہ تمہاری نظروں سے اوجھل ہو جائے جب تک کہ گلے سڑے نہیں، اور تمہارے تیر کے سوا اس کی ہلاکت کا کوئی اور اثر معلوم نہ ہو سکے۔ پھر انہوں نے کہا: مجوسیوں (پارسیوں) کے برتن کے متعلق بتائیے جب کہ ہمیں اس کے سوا دوسرا برتن نہ ملے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: دھو ڈالو اور اس میں کھاؤ۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّيْدِ/حدیث: 2857]
ایک بدوی جس کا نام سیدنا ابو ثعلبہ رضی اللہ عنہ تھا انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میرے ہاں سدھائے ہوئے (شکاری) کتے ہیں، آپ مجھے ان کے ساتھ شکار کے بارے میں ارشاد فرمائیے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگر تیرے پاس سدھائے ہوئے کتے ہیں، تو جو وہ تیرے لیے پکڑ رکھیں اس سے کھا لے۔ انہوں نے کہا: ذبح کر کے یا بغیر ذبح کیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں (دونوں صورتوں میں اس کا کھانا جائز ہے)۔ انہوں نے کہا: اگر کتا اس سے کھا لے تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: خواہ کھا بھی لے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے میری کمان کے (شکار کے) بارے میں ارشاد فرمائیے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تیری کمان جو تجھ پر لوٹائے اسے کھا لے۔ انہوں نے کہا: ذبح کر کے یا بغیر ذبح کیے۔ انہوں نے کہا: اگر وہ شکار مجھ سے غائب ہو جائے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اگرچہ تجھ سے غائب ہی ہو جائے، لیکن جب تک کہ خراب نہ ہو، یا تو اس میں اپنے سوا کسی اور کے تیر کا نشان نہ پائے۔ انہوں نے کہا: مجھے مجوسیوں کے برتنوں کے بارے میں ارشاد فرمائیں کہ ہم ان کے استعمال کرنے پر مجبور ہو جائیں تو؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: انہیں دھو لو اور پھر ان میں کھا لو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الصَّيْدِ/حدیث: 2857]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبوداود، (تحفة الأشراف: 8671)، وقد أخرجہ: سنن النسائی/الصید 16 (4301)، مسند احمد (2/184) (حسن)» ‏‏‏‏ (مگر «وإن اَکَلَ منہ» کا جملہ منکر ہے جو عدی کی حدیث (2854) کے مخالف ہے، اور نسائی کی روایت میں یہ جملہ ہے تو مگر اس میں اس کی جگہ «وإن قتلنَ» ہے جو عدی کی حدیث کے مطابق ہے)
قال الشيخ الألباني: حسن لكن قوله وإن أكل منه منكر
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده حسن

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں