سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
16. باب مَتَى يُفْرَضُ لِلرَّجُلِ فِي الْمُقَاتِلَةِ
باب: لڑائی میں کس عمر کے مرد کا حصہ لگایا جائے؟
حدیث نمبر: 2957
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا يَحْيَى، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي نَافِعٌ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُرِضَهُ يَوْمَ أُحُدٍ وَهُوَ ابْنُ أَرْبَعَ عَشْرَةَ، فَلَمْ يُجِزْهُ وَعُرِضَهُ يَوْمَ الْخَنْدَقِ وَهُوَ ابْنُ خَمْسَ عَشْرَةَ سَنَةً، فَأَجَازَهُ.
عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ وہ غزوہ احد کے دن نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے گئے اس وقت ان کی عمر (۱۴) سال تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت نہیں دی، پھر وہ غزوہ خندق کے موقع پر پیش کئے گئے اس وقت وہ پندرہ سال کے ہو گئے تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں غزوہ میں شرکت کی اجازت دے دی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2957]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ان کو غزوہ احد کے دن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کیا گیا جبکہ ان کی عمر چودہ سال تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت نہ دی۔ اور پھر (اگلے سال) خندق کے موقع پر پیش کیا گیا جبکہ اس وقت ان کی عمر پندرہ سال تھی، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دے دی۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْخَرَاجِ وَالْإِمَارَةِ وَالْفَيْءِ/حدیث: 2957]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «صحیح البخاری/الشہادات 18 (2664)، والمغازي 29 (4097)، سنن النسائی/الطلاق 20 (3461)، (تحفة الأشراف: 7833، 8115، 8153)، وقد أخرجہ: صحیح مسلم/الإمارة 23 (1864)، سنن الترمذی/الأحکام 24 (1316)، والجھاد 31 (1711)، سنن ابن ماجہ/الحدود 4 (2543)، مسند احمد (2/17) ویأتی ہذا الحدیث فی الحدود (4406) (صحیح)»
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (4097)