🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

27. باب الصَّبْرِ عِنْدَ الصَّدْمَةِ
باب: صبر درحقیقت وہی ہے جو صدمہ آتے ہی کیا جائے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3124
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، حَدَّثَنَا عُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ، قَالَ: أَتَى نَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى امْرَأَةٍ تَبْكِي عَلَى صَبِيٍّ لَهَا، فَقَالَ لَهَا" اتَّقِي اللَّهَ، وَاصْبِرِي، فَقَالَتْ: وَمَا تُبَالِي أَنْتَ بِمُصِيبَتِي؟ فَقِيلَ لَهَا: هَذَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَتَتْهُ، فَلَمْ تَجِدْ عَلَى بَابِهِ بَوَّابِينَ، فَقَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، لَمْ أَعْرِفْكَ. فَقَالَ: إِنَّمَا الصَّبْرُ عِنْدَ الصَّدْمَةِ الْأُولَى، أَوْ عِنْدَ أَوَّلِ صَدْمَةٍ".
انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ایک ایسی عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے کی موت کے غم میں (بآواز) رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ سے ڈرو اور صبر کرو ۱؎، اس عورت نے کہا: آپ کو میری مصیبت کا کیا پتا ۲؎؟، تو اس سے کہا گیا: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہیں (جب اس کو اس بات کی خبر ہوئی) تو وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپ کے دروازے پہ اسے کوئی دربان نہیں ملا، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا: اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہ تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر وہی ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو یا فرمایا: صبر وہی ہے جو صدمہ کے شروع میں ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3124]
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم ایک عورت کے پاس سے گزرے جو اپنے بچے پر رو رہی تھی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس سے فرمایا: اللہ کا تقویٰ اختیار کر اور صبر کر۔ وہ بولی: تمہیں میری مصیبت کی کیا پرواہ؟ اس عورت سے کہا گیا: یہ تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔ تب وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئی، اس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازے پر چوکیدار نہ پائے، اس نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں نے آپ کو پہچانا نہیں تھا۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: صبر وہی ہوتا ہے جو پہلے صدمہ کے وقت ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْجَنَائِزِ/حدیث: 3124]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الجنائز 31 (1283)، 42 (1302)، الأحکام 11 (7154)، صحیح مسلم/الجنائز 8 (926)، سنن النسائی/الجنائز 22 (1870)، سنن الترمذی/ الجنائز 13 (988)، سنن ابن ماجہ/الجنائز 55 (1596)، (تحفة الأشراف: 439)، وقد أخرجہ: مسند احمد (3/130، 143، 217) (صحیح)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: یعنی نوحہ مت کر ورنہ اسے عذاب دیا جائے گا۔
۲؎: کہ یہ میرے لئے کتنی بڑی مصیبت ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (1252) صحيح مسلم (926)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں