🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Study in Saudi Arabia with a Fully Funded Scholarship Admission Open Join Our Whatsapp Channel For Detail
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

5. باب فِي كَرَاهِيَةِ الْحَلِفِ بِالآبَاءِ
باب: باپ دادا کی قسم کھانا منع ہے۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3248
حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، حَدَّثَنَا عَوْفٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" لَا تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، وَلَا بِأُمَّهَاتِكُمْ، وَلَا بِالْأَنْدَادِ، وَلَا تَحْلِفُوا إِلَّا بِاللَّهِ، وَلَا تَحْلِفُوا بِاللَّهِ إِلَّا وَأَنْتُمْ صَادِقُونَ".
ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اپنے باپ دادا کی قسم نہ کھاؤ، نہ اپنی ماؤں کی قسم کھانا، اور نہ ان کی قسم کھانا جنہیں لوگ اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں، تم صرف اللہ کی قسم کھانا، اور اللہ کی بھی قسم اسی وقت کھاؤ جب تم سچے ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3248]
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اپنے باپوں یا ماؤں کے نام کی قسمیں نہ کھایا کرو اور نہ بتوں کے نام کی، صرف اللہ کے نام کی قسم کھایا کرو، اور اللہ کی قسم بھی اسی صورت میں کھاؤ جب تم سچے ہو۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3248]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن النسائی/الأیمان 5 (3800)، (تحفة الأشراف: 14483) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح
مشكوة المصابيح (3418)
أخرجه النسائي (3800 وسنده صحيح)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3249
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ، حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ: أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" أَدْرَكَهُ وَهُوَ فِي رَكْبٍ، وَهُوَ يَحْلِفُ بِأَبِيهِ، فَقَالَ: إِنَّ اللَّهَ يَنْهَاكُمْ أَنْ تَحْلِفُوا بِآبَائِكُمْ، فَمَنْ كَانَ حَالِفًا، فَلْيَحْلِفْ بِاللَّهِ أَوْ لِيَسْكُتْ".
عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انہیں اس حال میں پایا کہ وہ ایک قافلہ میں تھے اور اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں اپنے باپ دادا کی قسم کھانے سے روکتا ہے اگر کسی کو قسم کھانی ہی ہے تو اللہ کی قسم کھائے ورنہ خاموش رہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3249]
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ وہ ایک قافلے میں جا رہے تھے کہ پیچھے سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں آن ملے (آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کو سنا) جب کہ وہ اپنے باپ کی قسم کھا رہے تھے، تو فرمایا: اللہ تعالیٰ تمہیں منع فرماتا ہے کہ اپنے آباء و اجداد کی قسمیں کھاؤ، جسے قسم کھانی ہو وہ اللہ کے نام کی قسم کھائے، یا خاموش رہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3249]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح مسلم/الأیمان 1 (1646)، (تحفة الأشراف: 10555)، وقد أخرجہ: صحیح البخاری/الأدب 74 (6107)، الأیمان 4 (6647)، سنن الترمذی/الأیمان 8 (1533)، سنن النسائی/الأیمان 4 (3399)، سنن ابن ماجہ/الکفارات 2 (2094)، موطا امام مالک/النذور 9 (14)، مسند احمد (2/11، 34، 69، 87، 125، 142) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح بخاري (6108) صحيح مسلم (1646)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3250
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: سَمِعَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ مَعْنَاهُ إِلَى بِآبَائِكُمْ زَادَ، قَالَ عُمَرُ: فَوَاللَّهِ مَا حَلَفْتُ بِهَذَا ذَاكِرًا وَلَا آثِرًا.
عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ مجھے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے (غیر اللہ کی قسم کھاتے ہوئے) سنا، پھر راوی نے اسی مفہوم کی حدیث: «بآبائكم» تک بیان کی، اس میں اتنا اضافہ ہے کہ عمر رضی اللہ عنہ نے کہا: قسم اللہ کی پھر میں نے نہ جان بوجھ کر اس کی قسم کھائی، اور نہ ہی کسی کی بات نقل کرتے ہوئے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3250]
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے سنا (کہ میں اپنے باپ کے نام کی قسم کھا رہا تھا) مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی بیان کیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے مزید کہا: اللہ کی قسم! (بعد ازاں) میں نے ان کی قسم نہیں کھائی، نہ عمداً اور نہ حکایتاً (کسی کی طرف سے نقل کرتے ہوئے)۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3250]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/ الإیمان 4 (6647)، صحیح مسلم/ الأیمان 1 (1646)، سنن النسائی/ الأیمان 4 (3798، 3799)، سنن ابن ماجہ/ الکفارات 2 (2094)، (تحفة الأشراف: 10518)، وقد أخرجہ: مسند احمد (1/18، 36) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح مسلم (1646)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3251
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْعَلَاءِ، حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ، قَالَ: سَمِعْتُ الْحَسَنَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سَعْدِ بْنِ عُبَيْدَةَ، قَالَ: سَمِعَ ابْنُ عُمَرَ رَجُلًا يَحْلِفُ لَا وَالْكَعْبَةِ، فَقَالَ لَهُ ابْنُ عُمَرَ: إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ:" مَنْ حَلَفَ بِغَيْرِ اللَّهِ فَقَدْ أَشْرَكَ".
سعد بن عبیدہ کہتے ہیں عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے ایک شخص کو کعبہ کی قسم کھاتے ہوئے سنا تو ابن عمر رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے اللہ کے سوا کسی اور کے نام کی قسم کھائی تو اس نے شرک کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3251]
سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے کسی کو سنا کہ وہ کعبہ کی قسم کھا رہا تھا تو انہوں نے اس سے کہا: بے شک میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا ہے: جس نے غیر اللہ کی قسم کھائی اس نے شرک کیا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3251]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏سنن الترمذی/الأیمان 8 (1535)، (تحفة الأشراف: 7045)، وقد أخرجہ: مسند احمد (2/34، 58، 60، 69، 86، 125) (صحیح)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3252
حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْعَتَكِيُّ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ جَعْفَرٍ الْمَدَنِيُّ، عَنْ أَبِي سُهَيْلٍ نَافِعِ بْنِ مَالِكِ بْنِ أَبِي عَامِرٍ، عَنْ أَبِيهِ، أَنَّهُ سَمِعَ طَلْحَةَ بْنَ عُبَيْدِ اللَّهِ يَعْنِي فِي حَدِيثِ قِصَّةِ الْأَعْرَابِيِّ، قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَفْلَحَ وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ دَخَلَ الْجَنَّةَ، وَأَبِيهِ إِنْ صَدَقَ".
مالک بن ابی عامر کہتے ہیں کہ طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے سنا (یعنی اعرابی کے واقعہ میں) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قسم ہے اس کے باپ کی، وہ کامیاب ہو گیا اگر وہ سچا ہے، قسم ہے اس کے باپ کی وہ جنت میں داخل ہو گیا اگر وہ سچا ہے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3252]
سیدنا طلحہ بن عبیداللہ رضی اللہ عنہ نے بدوی کے واقعہ والی حدیث میں بیان کیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کامیاب ہوا، قسم اس کے باپ کی! اگر سچا (ثابت قدم) رہا۔ جنت میں داخل ہوا، قسم اس کے باپ کی! اگر یہ سچا (ثابت قدم) رہا۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْأَيْمَانِ وَالنُّذُورِ/حدیث: 3252]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏صحیح البخاری/الإیمان 34 (46)، والصوم 1 (1891)، والشھادات 26 (2678)، والحیل 3 (6956)، صحیح مسلم/الإیمان 2، (11)، سنن النسائی/الصلاة 4 (459)، الصوم 1 (2092)، (تحفة الأشراف: 5009)، وقد أخرجہ: موطا امام مالک/قصر الصلاة 25 (94) (وهو قطعة من حديث تقدم في أول الصلاة برقم (391) وليس فيه ’’وأبيه‘‘ (اس حدیث میں یہ ٹکڑا ’’أفلح وأبيه إن صدق‘‘ شاذ ہے)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: شاذ وهو قطعة من حديث تقدم في أول الصلاة ليس فيه وأبيه
قال الشيخ زبير على زئي:صحيح
رواه البخاري (903) ومسلم (847) مختصرًا، وانظر الحديث السابق (392)

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں