🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

Join Whatsapp Channel
سنن ابي داود سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

سنن ابي داود میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (5274)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:

22. باب تَفْسِيرِ الْعَرَايَا
باب: عرایا کی تفسیر۔
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3365
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْهَمْدَانِيُّ، حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، عَنْ عَبْدِ رَبِّهِ بْنِ سَعِيدٍ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّهُ قَالَ:"الْعَرِيَّةُ الرَّجُلُ يُعْرِي النَّخْلَةَ أَوِ الرَّجُلُ يَسْتَثْنِي مِنْ مَالِهِ النَّخْلَةَ أَوِ الِاثْنَتَيْنِ، يَأْكُلُهَا، فَيَبِيعُهَا بِتَمْرٍ".
عبدربہ بن سعید انصاری کہتے ہیں عرایا یہ ہے کہ ایک آدمی ایک شخص کو کھجور کا ایک درخت دیدے یا اپنے باغ میں سے دو ایک درخت اپنے کھانے کے لیے الگ کر لے پھر اسے سوکھی کھجور سے بیچ دے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3365]
جناب عبدربہ بن سعید انصاری رحمہ اللہ نے بیان کیا کہ «الْعَرَايَا» یہ ہے کہ انسان کسی کو کھجور کا کوئی درخت دے دے یا باغ فروخت کرے تو اس میں سے ایک دو درخت مستثنیٰ کر لے تاکہ تازہ پھل کھا سکے، لیکن پھر اسے خشک کھجور کے بدلے بیچ دے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3365]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 18951) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3366
حَدَّثَنَا هَنَّادُ بْنُ السَّرِيِّ، عَنْ عَبْدَةَ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاق، قَالَ:" الْعَرَايَا أَنْ يَهَبَ الرَّجُلُ لِلرَّجُلِ النَّخَلَاتِ، فَيَشُقُّ عَلَيْهِ أَنْ يَقُومَ عَلَيْهَا، فَيَبِيعُهَا بِمِثْلِ خَرْصِهَا".
ابن اسحاق کہتے ہیں کہ عرایا یہ ہے کہ آدمی کسی شخص کو چند درختوں کے پھل (کھانے کے لیے) ہبہ کر دے پھر اسے اس کا وہاں رہنا سہنا ناگوار گزرے تو اس کا تخمینہ لگا کر مالک کے ہاتھ تر یا سوکھے کھجور کے عوض بیچ دے ۱؎۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3366]
ابن اسحاق نے بیان کیا کہ «الْعَرَايَا» عرایا یہ ہے کہ کوئی شخص کسی کو کھجوروں کے درخت ہبہ کرے، مگر بعد ازاں ان لوگوں کا آنا جانا اسے شاق گزرے تو ان کے پھل کا اندازہ کر کے خشک کھجور کے بدلے خرید لے۔ [سنن ابي داود/كِتَاب الْبُيُوعِ/حدیث: 3366]
تخریج الحدیث دارالدعوہ: «‏‏‏‏تفرد بہ أبو داود، (تحفة الأشراف: 19285) (صحیح الإسناد)» ‏‏‏‏
وضاحت: ۱؎: عریہ کی مختلف تعریفات ہیں: (۱) جو حدیث نمبر (۳۳۶۲) کے تحت گزری۔ (۲،۳) عبدربہ کی دو تعریفیں جو نمبر (۳۳۶۵) میں مذکور ہوئیں۔ (۴) ابن اسحاق کی یہ تعریف، پہلی تعریف امام مالک نیز دیگر بہت سے ائمہ سے منقول ہے۔
قال الشيخ الألباني: صحيح الإسناد مقطوع
قال الشيخ زبير على زئي:إسناده صحيح

مزید تخریج الحدیث شرح دیکھیں